(۲۶۹۵۲) حَدَّثَنَا یَعْلَی قَالَ : حدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَن عُمَارَۃَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ یَزِیدَ قَالَ : قَالَ عَبْدُ اللہِ : لاَ تَسْأَلُوا أَہْلَ الْکِتَابِ عَن شَیْئٍ فَتُکَذِّبُوا بِحَقٍّ ، أَوْ تُصَدِّقُوا بِبَاطِلٍ ، فَإِنَّہُمْ لَنْ یَہْدُوکُمْ وَیَضِلُّونَ أَنْفُسَہُمْ ، وَلَیْسَ أَحَدٌ مِنْہُمْ إلاَّ فِی قَلْبِہِ تَالِیَۃٌ تَدْعُوہُ إلَی دَیْنِہِ کَتَالِیَۃِ الْمَالِ۔
(٢٦٩٥٢) حضرت عبد الرحمن بن یزید فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے ارشاد فرمایا : تم اہل کتاب سے کسی بھی چیز کے متعلق مت پوچھا کرو کہ تم حق بات کو جھٹلا دو گے یا غلط بات کی تصدیق کردو گے۔ بیشک وہ تمہیں ہرگز سیدھی راہ نہیں دکھائیں گے۔ انھوں نے تو خود کو غلط راہ پر ڈالا ہوا ہے۔ ان میں سے ہر ایک کے دل میں خواہش ہے جو اسے اس کے دین کی طرف بلاتی ہے مال کی خواہش کی طرح۔