(۲۶۹۵۷) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ سَعِیدٍ ، عَن عُبَیْدِ اللہِ بْنِ الأَخْنَسِ ، عَنِ الْوَلِیدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَن یُوسُفَ بْنِ مَاہَکَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ : کُنْتُ أَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ أَسْمَعُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَأُرِیدُ حِفْظَہُ ، فَنَہَتْنِی قُرَیْشٌ عَن ذَلِکَ وقَالُوا : تَکْتُبُ کُلَّ شَیْئٍ تَسْمَعُہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَرَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَتَکَلَّمُ فِی الرِّضَا وَالْغَضَبِ قَالَ : فَأَمْسَکْت فَذَکَرْت ذَلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَأَشَارَ بِیَدِہِ إلَی فِیہِ فَقَالَ : اکْتُبْ فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ : مَا یَخْرُجُ مِنْہُ إلاَّ حَقٌّ۔
(دارمی ۴۸۴۔ احمد ۲/۱۹۲)
(٢٦٩٥٧) حضرت یوسف بن ماھک فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو نے ارشاد فرمایا : کہ میں رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنی ہوئی ہر حدیث لکھ لیا کرتا تھا تاکہ میں اس کو یاد رکھوں۔ قریش نے مجھے ایسا کرنے سے روک دیا۔ اور کہنے لگے ، کہ تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ہر فرمودہ بات لکھ لیتے ہو ؟ حالانکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کبھی خوشی کی حالت میں ہوتے ہیں اور کبھی غصہ کی حالت میں ! آپ فرماتے ہیں : کہ میں لکھنے سے رک گیا اور میں نے یہ بات نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ذکر کی۔ تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی زبان کی طرف اشارہ کر کے فرمایا : لکھ لیا کرو۔ پس قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اس زبان سے صرف حق بات نکلتی ہے۔