(۲۷۱۰۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُیَیْنَۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی نَجِیحٍ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ : إنَّ من أَرْبَی الرِّبَا تَفَضُّلُ الرَّجُلِ فِی عَرْضِ أَخِیہِ بِالشَّتْمِ ، وَإِنَّ أَکْبَرَ الْکَبَائِرِ شَتْمُ الرَّجُلِ وَالِدَیْہِ ، قِیلَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، وَکَیْفَ یَشْتُمُ وَالِدَیْہِ ؟ قَالَ : یَسُبُّ النَّاسَ فَیَسْتَسِبُّ النَّاسُ بِہِمَا۔ (طبرانی ۸۹۹)
(٢٧١٠٨) حضرت ابو نجیع فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : بیشک برا سود یہ ہے کہ آدمی اپنے بھائی کی عزت خراب کرنے میں حد سے گزر جائے اور سب سے بڑا گناہ یہ ہے کہ آدمی اپنے والدین کو گالی دے ۔ پوچھا گیا : یا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیسے کوئی اپنے والدین کو گالی دے سکتا ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ لوگوں کو گالی دیتا ہے تو وہ جواباً اس کے والدین کو گالی دیتے ہیں۔