(۲۷۱۱۳) حَدَّثَنَا عَلِیُّ بْنُ مُسْہِرٍ ، عَنْ أَبِی حَیَّانَ ، عَنْ أَبِیہِ قَالَ : الْتَقَی عَبْدُ اللہِ بْنُ عَمْرٍو ، وَابْنُ عُمَرَ فَانْتَجَیَا بَیْنَہُمَا ، ثُمَّ انْصَرَفَ کُلُّ وَاحِدٍ مِنْہُمَا إلَی أَصْحَابِہِ فَانْصَرَفَ ابْنُ عُمَرَ وَہُوَ یَبْکِی ، فَقَالُوا لَہُ : مَا یُبْکِیک ؟ قَالَ : أَبْکَانِی الَّذِی زَعَمَ ہَذَا ، أَنَّہُ سَمِعَہُ مِنْ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : لاَ یَدْخُلُ الْجَنَّۃَ أَحَدٌ فِی قَلْبِہِ مِثْقَالُ حَبَّۃِ خَرْدَلٍ مِنْ کِبْرٍ۔ (احمد ۱۶۴)
(٢٧١١٣) حضرت سعید بن حیان تیمی فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمرو اور حضرت عبداللہ بن عمر دونوں کی ملاقات ہوئی تو ان دونوں نے آپس میں سرگوشی کی، پھر ان دونوں میں سے ہر ایک اپنے اصحاب کی طرف لوٹ گیا۔ اور حضرت ابن عمر لوٹے اس حال میں کہ آپ رو رہے تھے۔ لوگوں نے آپ سے پوچھا : کس چیز نے آپ کو رلا دیا ؟ آپ نے فرمایا : مجھے رلایا اس شخص نے جو کہتا ہے کہ اس نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جنت میں داخل نہیں ہوگا کوئی ایک جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر تکبر ہوگا۔