(۲۷۲۷۲) حَدَّثَنَا یَحْیَی بْنُ آدَمَ قَالَ: حدَّثَنَا سُفْیَانُ بْنُ عُیَیْنَۃَ، عَنْ عَلِیِّ بْنِ زَیْدِ بْنِ جُدْعَانَ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ رَبِیعَۃَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ: خَطَبَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ یَوْمَ فَتْحِ مَکَّۃَ ، فَقَامَ عَلَی دَرَجِ الْکَعْبَۃِ ، فَقَالَ: الْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِی صَدَقَ وَعْدَہُ ، وَنَصَرَ عَبْدَہُ ، وَہَزَمَ الأَحْزَابَ وَحْدَہُ ، أَلاَ إِنَّ قَتِیلَ الْعَمْدِ الْخَطَأِ بِالسَّوْطِ ، أَوِ الْعَصَا فِیہِ الدِّیَۃُ مُغَلَّظَۃٌ : مِئَۃٌ مِنَ الإِبِلِ ، أَرْبَعُونَ خَلِفَۃً فِی بُطُونِہَا أَوْلاَدُہَا۔ (ابوداؤد ۴۵۳۶۔ احمد ۱۱)
(٢٧٢٧٢) حضرت ابن عمر نے فرمایا کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فتح مکہ والے دن خطبہ دیاپس آپ کعبہ کی سیڑھی پر کھڑے ہوئے پھر فرمایا ” تمام تعریفیں اس اللہ تعالیٰ کے لیے ہیں کہ جس نے اپنا وعدہ سچ کر دکھایا، اور اپنے بندے کی مدد کی ، اور تن تنہا گروہوں کو شکست دی خبردار تحقیق کوڑے یا چھڑی میں خطائے قصد کی وجہ سے قتل ہونے والے شخص میں دیت مغلظہ ہے یعنی سو اونٹ ہیں جس میں سے چالیس ایسی (حاملہ) اونٹنیاں ہیں کہ ان کی اولاد ان کے پیٹ میں ہو۔