(۲۷۴۰۴) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عُثْمَانُ بْنُ أَبِی سُلَیْمَانَ ؛ أَنَّ مَمْلُوکًا لِجُبَیْرِ بْنِ أَبِی سُلَیْمَانَ کَسَرَ إِحْدَی قَصَبَتَیْ أَنْفِ مَوْلًی لِعَطَائِ بْنِ بُخْتٍ ، وَإِنَّ ابْنَ سُرَاقَۃَ سَأَلَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ عَن ذَلِکَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : وَجَدْنَا فِی کِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ : أَیُّمَا عَظْمٍ کُسِرَ ، ثُمَّ جُبِرَ کَمَا کَانَ فَفِیہِ حِقَّتَانِ ، فَرَاجَعَ ابْنُ سُرَاقَۃَ عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنَّمَا کُسِرَتْ إِحْدَی الْقَصَبَتَیْنِ ، فَأَبَی عُمَرُ إِلاَّ أَنْ یَجْعَلَ فِیہَا الْحِقَّتَیْنِ وَافِیَتَیْنِ۔
(٢٧٤٠٤) حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ مجھ کو عثمان بن ابی سلیمان نے یہ بات بتائی ہے کہ جبیر بن سلیمان کے ایک غلام نے عطاء بن بخت کے ایک غلام کی ناک کی ایک ہڈی توڑ دی، اور ابن سراقہ نے عمر بن عبدالعزیز سے اس بارے میں سوال کیا تو انھوں نے جواب دیا کہ ہم نے عمر بن خطاب کی کتاب میں دیکھا ہے کہ کوئی بھی ہڈی جب ٹوٹ کر دوبارہ اسی طرح جڑ جائے تو اس میں تو چوتھے سال والی اونٹنیاں دینی ہوں گی، پھر ابن سراقہ دوبارہ گویا ہوئے کہ اس کی تو ناک کی دو ہڈیوں میں سے ایک ہی ٹوٹی ہے، لیکن عمر بن عبدالعزیز نے پھر بھی اس مں ہ دو کامل اونٹنیاں جو چوتھے سال میں چل رہی ہوں کا ہی فیصلہ فرمایا۔