(۲۷۴۸۳) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی عَبْدُ الْعَزِیزِ بْنُ عُمَرَ ، أَنَّ فِی کِتَابٍ لِعُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؛ فِی اللِّسَانِ إِذَا اسْتُؤْصِلَ الدِّیَۃُ کَامِلَۃً ، وَمَا أُصِیبَ مِنَ اللِّسَانِ فَبَلَغَ أَنْ یَمْنَعَ الْکَلاَمَ فَفِیہِ الدِّیَۃُ کَامِلَۃً ، وَفِی لِسَانِ الْمَرْأَۃِ الدِّیَۃُ کَامِلَۃً ، وَمَا أُصِیبَ مِنْ لِسَانِہَا فَبَلَغَ أَنْ یَمْنَعَ الْکَلاَمَ فَفِیْہِ الدِّیَۃُ کَامِلَۃً ، وَمَا کَانَ دُونَ ذَلِکَ فَبِحِسَابِہِ۔ (ابوداؤد ۲۶۱)
(٢٧٤٨٣) حضرت ابن جریج کا ارشاد ہے کہ مجھ کو عبدالعزیز بن عمر نے یہ بات بتائی کہ عمر بن عبدالعزیز کی کتاب میں لکھا ہے کہ عمر سے مروی ہے کہ زبان جب جڑ سے نکل جائے تو اس میں پوری دیت ہے اور زبان کا جو زخم بڑھ جائے کہ بات کرنے سے مانع ہو تو اس میں بھی کامل دیت ہے اور عورت کی زبان میں بھی دیت کاملہ ہے اور عورت کی زبان کا جو زخم بڑھ جائے اور بات کرنے سے مانع ہو تو اس میں بھی دیت کاملہ ہے اور زخم اس سے کم درجہ کا ہو تو اس میں اس کے حساب سے دیت ہوگی۔