(۲۷۵۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ قَضَی فِیمَا أَقْبَلَ مِنَ الْفَمِ بِخَمْسِ فَرَائِضَ خَمْسٍ ، وَذَلِکَ خَمْسُونَ دِینَارًا ، قِیمَۃُ کُلِّ فَرِیضَۃٍ عَشَرَۃُ دَنَانِیرَ ، وَفِی الأَضْرَاسِ بَعِیرٌ بَعِیرٌ۔
وَذَکَرَ یَحْیَی : أَنَّ مَا أَقْبَلَ مِنَ الْفَمِ ؛ الثَّنَایَا ، وَالرَّبَاعِیَاتُ ، وَالأَنْیَابُ۔
قَالَ سَعِیدٌ : حتَّی إِذَا کَانَ مُعَاوِیَۃُ فَأُصِیبَتْ أَضْرَاسُہُ ، قَالَ : أَنَا أَعْلَمُ بِالأَضْرَاسِ مِنْ عُمَرَ ، فَقَضَی فِیہِ خَمْسَ فَرَائِضَ ۔ قَالَ سَعِیدٌ : لَوْ أُصِیبَ الْفَمُ کُلُّہُ فِی قَضَائِ عُمَرَ لَنَقَصَتِ الدِّیَۃُ ، وَلَوْ أُصِیبَ فِی قَضَائِ مُعَاوِیَۃَ لَزَادَتِ الدِّیَۃُ ، وَلَوْ کُنْتُ أَنَا لَجَعَلْتُ فِی الأَضْرَاسِ بَعِیرَیْنِ بَعِیرَیْنِ۔
(٢٧٥٣٢) حضرت سعید بن مسیب سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب نے منہ کے سامنے والے دانتوں میں پانچ اونٹوں میں سے ایک کا فیصلہ کیا اور ہر اونٹ کی قیمت دس دینار ہے تو یہ کل پچاس دینار بن گئے اور ڈاڑھیں ایک اونٹ کا فیصلہ کیا اور یحییٰ فرماتے ہیں کہ سامنے والے دانت اوپر نیچے کے آگے والے چار دانت اور اس کے ساتھ اوپر نیچے کے چار دانت اور پھر کچلی والے دانت ہیں۔ حضرت سعید فرماتے ہیں کہ یوں ہی معاملہ چلتا رہا یہاں تک کہ حضرت معاویہ کی ڈاڑھیں زخمی ہوئیں تو انھوں نے فرمایا کہ میں ڈاڑھوں کے بارے میں عمر سے زیادہ جانتا ہوں تو انھوں نے اس میں پانچ اونٹوں کا فیصلہ کیا حضرت سعید کا ارشاد ہے کہ حضرت عمر کے فیصلہ کے مطابق اگر تمام دانت ٹوٹ جائیں تو قیمت کم بنتی ہے۔ اور حضرت معاویہ کے فیصلہ کے مطابق دیت زیادہ بنتی ہے اور اگر میں ہوتا تو ڈاڑھوں میں دو دو اونٹ دیت مقرر کرتا۔