(۲۷۹۸۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِی ہِشَامٌ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُلُّ عَمْدٍ لَیْسَ فِیہِ قَوَدٌ فَعَقْلُہُ فِی مَالِ الْمُصِیبِ ، وَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ فَعَلَی عَاقِلَۃِ الْمُصِیبِ ، إِنْ قَطَعَ یَمِینًا عَمْدًا ، وَکَانَتْ یَمِینُ الْقَاطِعِ قَدْ قُطِعَتْ قَبْلَ ذَلِکَ ، فَعَقْلُہَا فِی مَالِ الْقَاطِعِ ، فَإِنْ لَمْ یَکُنْ لَہُ مَالٌ فَعَلَی عَاقِلَتِہِ ، فَإِنْ کَانَتْ لَہُ یَدٌ یُسْرَی لَمْ یُقَدْ مِنْہَا ، وَالْعَقْلُ کَذَلِکَ ، وَالأَعْضَائِ کُلِّہَا کَذَلِکَ۔
(٢٧٩٨٥) حضرت ہشام بن عروہ فرماتے ہیں کہ حضرت عروہ نے ارشاد فرمایا : ہر وہ عمد جس میں قصاص ممکن نہ ہو تو اس کی دیت زخم لگانے والے کے مال میں لازم ہوگی اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو زخم لگانے والے کے خاندان پر لازم ہوگی۔ یعنی اگر اس نے کسی کا داہنا ہاتھ قصداً کاٹ دیا اور کاٹنے والے کا داہنا ہاتھ اس سے پہلے ہی کٹا ہوا تھا تو اس کی دیت کاٹنے والے کے مال میں لازم ہوگی اور اگر اس کے پاس مال نہ ہو تو اس کے خاندان والوں پر لازم ہوگی اگرچہ اس کا بایاں ہاتھ موجود ہو پھر بھی قصاصاً نہیں کاٹا جائے گا اور دیت کا بھی یہی معاملہ ہوگا اور سارے کے سارے اعضاء کا بھی یہی معاملہ ہے۔