(۲۸۰۷۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا سُفْیَانُ ، عَن رَبِیعَۃَ بْنِ أَبِی عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : قُلْتُ لِسَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ: کَمْ فِی ہَذِہِ مِنَ الْمَرْأَۃِ ؟ یَعْنِی الْخِنْصَرِ ، فَقَالَ : عَشْرٌ مِنَ الإِبِلِ ، قَالَ : قُلْتُ : فِی ہَذَیْنِ ؟ یَعْنِی الْخِنْصَرَ وَالَّتِی تَلِیہَا ، قَالَ : عِشْرُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَہَؤُلاَئِ ؟ یَعْنِی الثَّلاَثَۃَ ، قَالَ : ثَلاَثُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : فَفِی ہَؤُلاَئِ ؟ وَأَوْمَأَ إِلَی الأَرْبَعِ ، قَالَ : عِشْرُونَ ، قَالَ : قُلْتُ : حِینَ آلَمَتْ جِرَاحُہَا وَعَظُمَتْ مُصِیبَتُہَا کَانَ الأَقَلَّ لأَِرْشِہَا ؟ قَالَ : أَعِرَاقِیٌّ أَنْتَ ؟ قَالَ : قُلْتُ : عَالِمٌ مُتَثَبِّتٌ ، أَوْ جَاہِلٌ مُتَعَلِّمٌ ، قَالَ : یَا ابْنَ أَخِی ، السُّنَّۃُ۔
(مالک۸۶۰۔ عبدالرزاق ۱۷۷۴۹)
(٢٨٠٧٦) حضرت ربیعہ بن ابو عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سعیدبن مسیب سے دریافت کیا عورت کی چھنگلی ٹوٹنے میں کیا لازم ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : دس اونٹ، میں نے پوچھا : اور ان دونوں میں یعنی چھنگلی اور اس کے ساتھ ملی ہوئی انگلی میں ؟ آپ نے فرمایا : بیس اونٹ، میں نے پوچھا ! ان تین انگلیوں میں کیا لازم ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : تیس اونٹ میں نے چاروں انگلیوں کی طرف اشارہ کر کے پوچھا ! ان میں کیا لازم ہوتا ہے ؟ آپ نے فرمایا : بیس اونٹ راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی ؟ جب اس کا درد بڑھ گیا اور تکلیف زیادہ ہوگئی تو اس کی دیت کم کیوں ہوئی ؟ آپ نے فرمایا : کیا تم عراق کے رہنے والے ہو ؟ میں نے عرض کی محقق عالم بہتر ہے یا جاہل طالبعلم ! آپ نے جواب دیا : اے میرے بھتیجے یہ سنت ہے۔