(۲۸۱۸۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَن عِکْرِمَۃَ ، عن عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ؛ قَضَی بِالدِّیَۃِ عَلَی أَہْلِ الْقُرَی اثْنَیْ عَشَرَ أَلْفًا ، وَقَالَ : إِنَّ الزَّمَانَ یَخْتَلِفُ ، وَأَخَافُ عَلَیْکُمُ الْحُکَّامَ بَعْدِی ، فَلَیْسَ عَلَی أَہْلِ الْقُرَی زِیَادَۃٌ فِی تَغْلِیظِ عَقْلٍ ، وَلاَ فِی الشَّہْرِ الْحَرَامِ ، وَلاَ الْحُرْمَۃِ ، وَعَقْلِ أَہْلِ الْقُرَی فِیہِ تَغْلِیظٌ لاَ زِیَادَۃَ فِیہِ۔
(٢٨١٨١) حضرت عکرمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن خطاب نے بستی والوں پر بارہ ہزار درہم دیت کا فیصلہ کیا۔ اور ارشاد فرمایا : میرے بعد تم پر مقرر ہونے والے حکام کے بارے میں مجھے ڈر ہے۔ پس بستی والوں پر دیت کو مغلظ بنانے میں اضافہ نہیں ہوگا اور نہ ہی حرمت کے مہینوں میں اور نہ ہی حرم کی حدود میں اور بستی والوں کی دیت مغلظہ ہے اس میں اضافہ نہیں ہوگا۔