(۲۸۲۲۹) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ؛ أَنَّ رَجُلَیْنِ مِنَ الأَعْرَابِ اخْتَصَمَا بِالْمَدِینَۃِ فِی زَمَانِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا لِصَاحِبِہِ : ضَرَبْتُہُ وَاللَّہِ حَتَّی سَلَحَ ، فَقَالَ : اشْہَدُوا ، فَقَدْ وَاللَّہِ صَدَقَ ، فَأَرْسَلَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی سَعِیدِ بْنِ الْمُسَیَّبِ یَسْأَلُہُ عَنْ رَجُلٍ ضَرَبَ رَجُلاً حَتَّی سَلَحَ ، ہَلْ فِی ذَلِکَ أَمْر مَضَی ، أَوْ سُنَّۃٌ ؟ قَالَ سَعِیدٌ : قَضَی فِیہَا عُثْمَانُ بِثُلُثِ الدِّیَۃِ۔
(٢٨٢٢٩) حضرت یحییٰ بن سعید فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے زمانہ میں دو دیہاتی آدمیوں کا مدینہ میں جھگڑا ہوگیا تو ان میں سے ایک اپنے ساتھی کو کہنے لگا : اللہ کی قسم میں نے اسے مارا یہاں تک کہ اس کا پاخانہ نکل گیا۔ اس نے کہا گواہ ہو جاؤ کہ اللہ کی قسم اس نے سچ کہا پھر حضرت عمر بن عبدالعزیز نے حضرت سعید بن مسیب کے پاس قاصد بھیج کر سوال کیا کہ اگر ایک آدمی نے کسی کو مارا یہاں تک کہ اس کا پاخانہ نکل گیا کیا اس کے بارے میں کوئی حکم گزرا ہے یا کوئی سنت طریقہ موجود ہے ؟ حضرت سعید نے فرمایا : اس صورت میں حضرت عثمان نے تہائی دیت کا فیصلہ فرمایا۔