(۲۸۲۴۶) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، وَسُفْیَانُ ، عَنْ أَبِی حَصِینٍ ، عَنْ عُمَیْرِ بْنِ سَعِید النَّخَعِیِّ ، قَالَ : قَالَ عَلِیٌّ : مَا کُنْتُ لأُِقِیمَ عَلَی رَجُلٍ حَدًّا فَیَمُوت فَأَجِد فِی نَفْسِی مِنْہُ شَیْئًا إِلاَّ صَاحِبَ الْخَمْرِ لَوْ مَاتَ وَدَیْتُہُ۔ وَزَادَ سُفْیَانُ : وَذَلِکَ أَنَّ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَمْ یَسُنَّہُ۔
(٢٨٢٤٦) حضرت عمیر بن سعید نخعی فرماتے ہیں کہ حضرت علی نے ارشاد فرمایا : میں نے جب کسی پر حد قائم کی اور اس کی موت واقع ہوگئی تو مجھے اس کے بارے میں اپنے دل میں کوئی بات محسوس نہیں ہوئی مگر شراب پینے والے کے متعلق کہ اگر وہ مرگیا تو اس کی دیت ادا کروں گا۔ اور سفیان نے اتنا اضافہ نقل کیا کہ یہ اس وجہ سے ہے کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس بارے میں کوئی طریقہ جاری نہیں کیا۔