(۲۸۲۶۹) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ وَہْبٍ ، قَالَ : خَرَجَ رِجَالٌ سَفَرٌ فَصَحِبَہُمْ رَجُلٌ ، فَقَدِمُوا وَلَیْسَ مَعَہُمْ ، قَالَ: فَاتَّہَمَہُمْ أَہْلُہُ ، فَقَالَ شُرَیْحٌ : شُہُودُکُمْ أَنَّہُمْ قَتَلُوا صَاحِبَکُمْ، وَإِلاَّ حَلَفُوا بِاللَّہِ مَا قَتَلُوہُ ، فَأَتَوْا بِہِمْ عَلِیًّا وَأَنَا عِنْدَہُ ، فَفَرَّقَ بَیْنَہُمْ فَاعْتَرَفُوا ، فَسَمِعْتُ عَلِیًّا یَقُولُ : أَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْقرْم ، فَأَمَرَ بِہِمْ فَقُتِلُوا۔
(٢٨٢٦٩) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت سعیدبن وہب نے ارشاد فرمایا : چند آدمی سفر میں نکلے تو ان کے ساتھ ایک آدمی بھی ہو لیا جب وہ واپس آئے تو وہ آدمی ان کے ساتھ نہیں تھا راوی کہتے ہیں : اس آدمی کے گھر والوں نے ان مسافروں پر الزام لگا دیا اس پر حضرت شریح نے فرمایا : تم گواہ لاؤ اس بات پر کہ انھوں نے تمہارے ساتھی کو قتل کیا ہے ورنہ یہ لوگ اللہ کی قسم اٹھائیں گے کہ انھوں نے قتل نہیں کیا پس لوگ انھیں لے کر حضرت علی کے پاس آگئے اور میں بھی آپ کے پاس تھا آپ نے ان کے درمیان جدائیگی کی تو انھوں نے اعتراف کرلیا راوی کہتے ہیں کہ میں نے حضرت علی کو یوں فرماتے ہوئے سنا، میں ابو الحسن تجربہ کار ہوں پھر آپ کے حکم سے ان کو قتل کردیا گیا۔