(۲۸۲۸۳) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْقَعْقَاعِ ، قَالَ : دَعَوْتُ إِلَی بَیْتِی قَوْمًا فَطَعِمُوا وَشَرِبُوا، فَسَکِرُوا وَقَامُوا إِلَی سَکَاکِینَ الْبَیْتِ، فَاضْطَرَبُوا بِہَا، فَجَرَحَ بَعْضُہُمْ بَعْضًا وَہُمْ أَرْبَعَۃٌ ، فَمَاتَ اثْنَان وَبَقِیَ اثْنَان، فَجَعَلَ عَلِیٌّ الدِّیَۃَ عَلَی الأَرْبَعَۃِ جَمِیعًا، وَقَصَّ لِلْمَجْرُوحِینَ مَا أَصَابَہُمَا مِنْ جِرَاحَاتِہِمَا۔
(٢٨٢٨٣) حضرت سماک فرماتے ہیں کہ حضرت عبدالرحمن بن قعقاع نے ارشاد فرمایا کہ میں نے چند لوگوں کو اپنے گھر دعوت پر بلایا : ان لوگوں نے کھانا کھایا اور شراب پی کر نشہ میں آگئے اور گھر کے چھری، چاقو اٹھالیے پھر ان کے ذریعہ ہنگامہ کر کے ان میں سے بعض نے بعض کو زخمی کردیا۔ وہ لوگ کُل چار افراد تھے پس دو مرگئے اور دو بچ گئے پس حضرت علی نے ان چاروں پر دیت لازم قرار دی اور زخمیوں سے ان کو پہنچنے والے زخموں کے بقدر تخفیف کردی۔