hadith book logo

Ibn Abi Shaybah: Hadith 28303

.

ابن أبي شيبة

28303
Ibn Abi Shaybah
(۲۸۳۰۴) حَدَّثَنَا ابْنُ فُضَیْلٍ ، عَنْ أَبِی نَصْرٍ ، وَیَحْیَی الْجَابِرِ ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِی الْجَعْدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَتَاہُ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَبَا عَبَّاسٍ ، أَرَأَیْتَ رَجُلاً قَتَلَ مُتَعَمِّدًا ، مَا جَزَاؤُہُ ؟ قَالَ : {جَزَاؤُہُ جَہَنَّمُ خَالِدًا فِیہَا وَغَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ} الآیَۃَ ، قَالَ : أَرَأَیْتَ إِنْ تَابَ ، وَآمَنَ ، وَعَمِلَ عَمَلاً صَالِحًا ، ثُمَّ اہْتَدَی ؟ فَقَالَ : وَأَنَّی لَہُ التَّوْبَۃُ ، ثَکِلَتْک أُمُّک ؟ إِنَّہُ یَجِیئُ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ آخِذًا بِرَأْسِہِ ، تَشْخَبُ أَوْدَاجُہُ حَتَّی یَقِفَ بِہِ عَندَ الْعَرْشِ ، فَیَقُولُ : یَا رَبِّ ، سَلْ ہَذَا فِیمَ قَتَلَنِی۔ (ترمذی ۳۰۲۹۔ احمد ۲۲۲)
(٢٨٣٠٤) حضرت سالم بن ابو الجعد فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور کہنے لگا : اے ابو عباس ! آپ کی کیا رائے ہے اس شخص کے بارے میں جس نے جان بوجھ کر قتل کردیا ہو اس کی سزا کیا ہے ؟ آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی : ترجمہ :۔ اس کا بدلہ جہنم ہے ہمیشہ رہے گا اس میں اور اس پر اللہ کا غصہ ہے اس آدمی نے پوچھا ؟ آپ کی کیا رائے ہے اگر وہ توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے پھر اس کو ہدایت مل جائے ؟ آپ نے فرمایا : اس کی توبہ کہاں قبول ہوسکتی ہے ؟ تیری ماں تجھے گم پائے ؟ بیشک مقتول شخص قیامت کے دن آئے گا اس حال میں کہ اس نے اپنا سر پکڑا ہوا ہوگا اور اس کی رگوں سے خون نکل رہا ہوگا یہاں تک کہ وہ عرش کے پاس ٹھہر جائے گا اور کہے گا : اے پروردگار ! اس سے پوچھیے کیوں اس نے مجھے قتل کیا ؟