(۲۸۳۲۶) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ قَالَ : أَخْبَرَنَا أَبُو مَالِکٍ الأَشْجَعِیُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَیْدَۃَ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی ابْنِ عَبَّاسٍ فَقَالَ : لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا تَوْبَۃٌ ؟ قَالَ : لاَ ، إِلاَّ النَّارُ ، فَلَمَّا ذَہَبَ قَالَ لَہُ جُلَسَاؤُہُ : مَا ہَکَذَا کُنْتَ تُفْتِینَا ، کُنْتَ تُفْتِینَا أَنَّ لِمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا تَوْبَۃٌ مَقْبُولَۃٌ ، فَمَا بَالُ الْیَوْمِ ؟ قَالَ : إِنِّی أَحْسِبُہُ رَجُلاً مُغْضَبًا یُرِیدُ أَنْ یَقْتُلَ مُؤْمِنًا ، قَالَ : فَبَعَثُوا فِی أَثَرِہِ فَوَجَدُوہُ کَذَلِکَ۔
(٢٨٣٢٦) حضرت سعد بن عبیدہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت ابن عباس کے پاس آیا اور کہنے لگا : کیا مومن کو قتل کرنے والے کے لیے توبہ کا دروازہ کھلا ہے ؟ آپ نے فرمایا : نہیں، سوائے جہنم کے پس جب وہ شخص چلا گیا۔ آپ کے ہم نشینوں نے آپ سے کہا : آپ ہمیں ایسے تو فتویٰ نہیں دیتے تھے۔ آپ تو ہمیں یوں فتویٰ نہیں دیتے تھے کہ یقیناً مومن کو قتل کرنے والے کی توبہ قبول ہوتی ہے تو آج اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا میرا خیال ہے یہ شخص غصہ میں ہے اور کسی مومن کو قتل کرنے کا ارادہ رکھتا ہے راوی نے کہا : پس وہ لوگ اس آدمی کے پیچھے گئے انھوں نے اسے ایسا ہی پایا۔