(۲۸۳۸۴) حَدَّثَنَا عَبْدُ الأَعْلَی ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : دَعَانِی عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ فَسَأَلَنِی عَنِ الْقَسَامَۃِ؟ فَقَالَ: قَدْ بَدَا لِی أَنْ أَرُدَّہَا ، إِنَّ الأَعْرَابِیَّ یَشْہَدُ ، وَالرَّجُلُ الْغَائِبُ یَجِیئُ فَیَشْہَدُ، فَقُلْتُ: یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ، إِنَّک لَنْ تَسْتَطِیعَ رَدَّہَا ، قَضَی بِہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَالْخُلَفَائُ بَعْدَہُ۔
(٢٨٣٨٤) حضرت معمر فرماتے ہیں کہ حضرت زہری نے ارشاد فرمایا : کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے مجھے بلا کر مجھ سے قسامت کے شرعی حکم کے متعلق سوال کیا ؟ تو آپ نے فرمایا : تحقیق میرے لیے یہ بات ظاہر ہوئی کہ میں اس کو رد کردوں اس لیے کہ دیہاتی گواہی دیتا ہے اور غائب آدمی آتا ہے پس گواہی دے دیتا ہے میں نے کہا : اے امیرالمومنین ! آپ اس کو رد نہیں کرسکتے اس لیے کہ رسول اللہ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بعد خلفاء راشدین نے اس کا فیصلہ فرمایا ہے۔