(۲۸۳۸۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : انْطَلَقَ رَجُلاَنِ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَوَجَدَاہُ قَدْ صَدَرَ عَنِ الْبَیْتِ عَامِدًا إِلَی مِنًی ، فَطَافَا بِالْبَیْتِ ، ثُمَّ أَدْرَکَاہُ فَقَصَّا عَلَیْہِ قِصَّتَہُمَا ، فَقَالاَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لَنَا قُتِلَ ، نَحْنُ إِلَیْہِ شَرَعٌ سَوَائٌ فِی الدَّمِ ، وَہُوَ سَاکِتٌ عَنہُمَا لاَ یَرْجِعُ إِلَیْہِمَا شَیْئًا ، حَتَّی نَاشَدَاہُ اللَّہَ فَحَمَلَ عَلَیْہِمَا ، ثُمَّ ذَکَّرَاہُ اللَّہَ فَکَفَّ عَنہُمَا ، ثُمَّ قَالَ عُمَرُ : وَیْلٌ لَنَا إِذَا لَمْ نُذَکَّرْ بِاللَّہِ ، وَوَیْلٌ لَنَا إِذَا لَمْ نَذْکُرِ اللَّہَ ، فِیکُمْ شَاہِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ تَجِیئَانِ بِہِمَا عَلَی مَنْ قَتَلَہُ فَنُقِیدُکُمْ مِنْہُ ، وَإِلاَّ حَلَفَ مَنْ یَدْرَؤکُمْ بِاللَّہِ : مَا قَتَلْنَا ، وَلاَ عَلِمْنَا قَاتِلاً ، فَإِنْ نَکَلُوا حَلَفَ مِنْکُمْ خَمْسُونَ ، ثُمَّ کَانَتْ لَکُمُ الدِّیَۃُ۔
(٢٨٣٨٧) حضرت قاسم بن عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ دو آدمی کوفہ سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس چل کر آئے انھوں نے آپ کو بیت اللہ سے منی کی طرف لوٹتا ہوا پایا ان دونوں نے بیت اللہ کا طواف کیا پھر انھوں نے آپ کو پا لیا تو انھوں نے آپ سے اپنا واقعہ بیان کیا انھوں نے کہا کہ اے امیرالمومنین ! ہمارا بھتیجا قتل ہوگیا ہے۔ حضرت عمر نے پہلے تو ان کی بات کی طرف توجہ نہ دی پھر ان سے فرمایا کہ دو عادل آدمی اس کے قاتل کے خلاف گواہی دے دیں۔ اگر وہ گواہی نہ دیں تو پچاس آدمی گواہی دیں کہ نہ ہم نے اس کو قتل کیا اور نہ اس کے قاتل کو جانتے ہیں پھر تمہیں دیت ملے گی۔