(۲۸۳۹۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا إِسْرَائِیلُ ، عَنْ أَبِی إِسْحَاقَ ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ الأَزْمَعِ ، قَالَ : وُجِدَ قَتِیلٌ بِالْیَمَنِ بَیْنَ وَادِعَۃَ وَأَرْحَبَ ، فَکَتَبَ عَامِلُ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ إِلَیْہِ ، فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : أَنْ قِسْ مَا بَیْنَ الْحَیَّیْنِ، فَإِلَی أَیِّہِمَا کَانَ أَقْرَبَ فَخُذْہُمْ بِہِ ، قَالَ : فَقَاسُوا ، فَوَجَدُوہُ أَقْرَبَ إِلَی وَادِعَۃَ ، قَالَ : فَأَخَذْنَا، وَأَغْرَمْنَا ، وَأَحْلَفْنَا ، فَقُلْنَا : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، أَتُحَلِّفُنَا وَتُغَرِّمُنَا ؟ قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : فَأَحْلَفَ مِنَّا خَمْسِینَ رَجُلاً بِاللَّہِ مَا فَعَلْتُ ، وَلاَ عَلِمْتُ قَاتِلاً۔
(٢٨٣٩٠) حضرت ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ حضرت حارث بن أزمع نے ارشاد فرمایا : یمن میں قبیلہ وادعہ اور ارحب کے درمیان ایک شخص مردہ حال میں پایا گیا تو حضرت عمر بن خطاب کے گورنر نے آپ کو اس بارے میں خط لکھا : حضرت عمر نے اس کو جواب میں لکھا کہ تم دونوں قبیلہ والوں کے درمیان پیمائش کرو کہ یہ مقتول دونوں میں سے کس قبیلہ کے زیادہ نزدیک ہے ان کو پکڑ لو راوی کہتے ہیں : انھوں نے پیمائش کی اور اس میں مقتول کو قبیلہ وادعہ کے زیادہ قریب پایا۔ راوی کہتے ہیں پس اس گورنر نے ہمارے قبیلہ والوں کو پکڑ لیا اور ہمیں ادائیگی کا ذمہ بنایا اور ہم سے قسم اٹھوائی ہم نے عرض کی اے امیرالمومنین ! کیا آپ ہم سے قسم اٹھوائیں گے اور ہمیں جرمانہ کی ادائیگی کا ذمہ دار بنائیں گے ؟ آپ نے فرمایا : جی ہاں ؟ راوی کہتے ہیں : پس ہم میں سے پچاس آدمیوں نے اللہ کی قسم اٹھائی : نہ ہم نے قتل کیا اور نہ ہی ہم قاتل کو جانتے ہیں۔