(۲۸۳۹۵) حَدَّثَنَا الْفَضْلُ بْنُ دُکَیْنٍ ، عَنْ سَعِیدِ بْنِ عُبَیْدٍ ، عَن بُشَیْرِ بْنِ یَسَارٍ ؛ زَعَمَ أَنَّ رَجُلاً مِنَ الأَنْصَارِ یُقَالُ لَہُ: سَہْلُ بْنُ أَبِی حَثْمَۃَ أَخْبَرَہُ ؛ أَنَّ نَفَرًا مِنْ قَوْمِہِ انْطَلَقُوا إِلَی خَیْبَرَ ، فَتَفَرَّقُوا فِیہَا ، فَوَجَدُوا أَحَدَہُمْ قَتِیلاً ، فَقَالُوا لِلَّذِینَ وَجَدُوہُ عِنْدَہُمْ : قَتَلْتُمْ صَاحِبَنَا ، قَالُوا : مَا قَتَلْنَا ، وَلاَ عَلِمْنَا ، فَانْطَلَقُوا إِلَی نَبِیِّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَقَالُوا : یَا نَبِیَّ اللہِ ، انْطَلَقْنَا إِلَی خَیْبَرَ فَوَجَدْنَا أَحَدَنَا قَتِیلاً ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: الْکُبْرَ الْکُبْرَ، فَقَالَ لَہُمْ: تَأْتُونَ بِالْبَیِّنَۃِ عَلَی مَنْ قَتَلَ ، فَقَالُوا : مَا لَنَا بَیِّنَۃٌ ، قَالَ : فَیَحْلِفُونَ لَکُمْ ، قَالُوا: لاَ نَرْضَی بِأَیْمَانِ الْیَہُودِ ، فَکَرِہَ نَبِیُّ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَنْ یُبْطِلَ دَمَہُ ، فَوَدَاہُ بِمِئَۃٍ مِنْ إِبِلِ الصَّدَقَۃِ۔
(٢٨٣٩٥) حضرت بشیر بن یسار ایک انصاری شخص جس کا نام سہل بن ابو حثمہ تھا وہ فرماتے ہیں کہ ان کی قوم کی ایک جماعت خیبر کی طرف گئی، وہ وہاں جا کر منتشر ہوگئے پھر انھوں نے اپنے ایک ساتھی کو مردہ حالت میں پایا ۔ انھوں نے جن کے پاس اسے مردہ حالت میں پایا تھا ان سے وہ کہنے لگے تم نے ہمارے ساتھی کو قتل کردیا انھوں نے کہا : ہم نے قتل نہیں کیا اور نہ ہی ہمیں قاتل کا علم ہے پھر یہ لوگ اللہ کے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آگئے اور کہنے لگے، یا نبی اللہ ! ہم خیبر گئے تھے تو وہاں ہم نے اپنے ایک ساتھی کو مرا ہوا پایا۔ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بڑے کو بلاؤ بڑے کو بلاؤ پھر آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ا ن سے فرمایا : تم لوگ اس شخص کے خلاف گواہی لاؤ جس نے قتل کیا ہے انھوں نے کہا ہمارے پاس گواہ تو نہیں ہیں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر یہودی تمہارے لیے قسم اٹھائیں گے انھوں نے کہا : ہم یہود کی قسم سے راضی نہیں ہوں گے پس اللہ کے نبی نے اس کے خون کے رائیگاں جانے کو ناپسند سمجھا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی دیت سو اونٹ ادا کی صدقہ کے اونٹوں میں سے۔