(۲۸۴۱۵) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ، عَنْ حَجَّاجِ بْنِ أَبِی عُثْمَانَ، قَالَ: حدَّثَنِی أَبُو رَجَاء مَوْلَی أَبِی قِلاَبَۃَ، عَنْ أَبِی قِلاَبَۃَ؛ أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِالْعَزِیزِ أَبْرَزَ سَرِیرَہُ یَوْمًا لِلنَّاسِ، ثُمَّ أَذِنَ لَہُمْ فَدَخَلُوا عَلَیْہِ، فَقَالَ: مَا تَقُولُونَ فِی الْقَسَامَۃِ؟ فَأَضَبَّ النَّاسُ، فَقَالُوا: نَقُولُ الْقَسَامَۃُ الْقَوَدُ بِہَا حَقٌّ، وَقَدْ أَقَادَتْ بِہَا الْخُلَفَائُ۔ (بخاری ۶۸۹۹۔ ابوداؤد ۲۷۳)
(٢٨٤١٥) حضرت ابو قلابہ فرماتے ہیں کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز نے ایک دن اپنا تخت لوگوں کے لیے ظاہر کیا پھر آپ نے پوچھا : تم لوگ قسامۃ کے بارے میں کیا کہتے ہو ؟ پس لوگوں نے غور و فکر کیا اور کہنے لگے : قسامت کے ذریعہ قصاص لینا حق ہے اور تحقیق خلفاء راشدین نے اس نے ذریعہ قصاص لیا ہے۔