(۲۸۴۱۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا الْمَسْعُودِیُّ ، عَنِ الْقَاسِمِ ، قَالَ : انْطَلَقَ رَجُلاَنِ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ إِلَی عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، فَوَجَدَاہُ قَدْ صَدَرَ عَنِ الْبَیْتِ ، فَقَالاَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنَّ ابْنَ عَمٍّ لَنَا قُتِلَ وَنَحْنُ إِلَیْہِ شَرَعٌ سَوَائٌ فِی الدَّمِ ، وَہُوَ سَاکِتٌ عَنہُمَا ، قَالَ : شَاہِدَانِ ذَوَا عَدْلٍ تَجِیئَانِ بِہِ عَلَی مَنْ قَتَلَہُ ، فَنُقِیدُکُمْ مِنْہُ۔
(٢٨٤١٧) حضرت مسعودی فرماتے ہیں کہ حضرت قاسم نے ارشاد فرمایا : دو آدمی کوفہ سے حضرت عمر بن خطاب کے پاس آئے ان دونوں نے آپ کو بیت اللہ سے جاتے ہوئے پایا۔ وہ دونوں کہنے لگے، اے امیرالمومنین ! ہمارے چچا کے بیٹے کو قتل کردیا گیا ہے اس حال میں کہ ہم اس کے خون میں بالکل برابر ہیں اور آپ ان دونوں سے خاموش رہے اور فرمایا : تم دونوں دو عادل گواہ لاؤ اس شخص کے خلاف جس نے اسے قتل کیا پس میں تمہیں اس سے قصاص دلوادوں گا۔