(۲۸۴۳۲) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ أَبِی إِسْحَاقَ ، قَالَ : سَمِعْتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ ، یَقُولُ : وَقَدْ تَیَسَّرَ قَوْمٌ مِنْ بَنِی لَیْثٍ لِیَحْلِفُوا الْغَدَ فِی الْقَسَامَۃِ ، فَقَالَ : یَالِعِبَادَ اللہِ ، لَقَوْمٌ یَحْلِفُونَ عَلَی مَا لَمْ یَرَوْہُ ، وَلَمْ یَحْضُرُوہُ ، وَلَمْ یَشْہَدُوہُ ، وَلَوْ کَانَ لِی ، أَوْ إِلَیَّ مِنَ الأَمْرِ شَیْئٌ لَعَاقَبْتُہُمْ ، أَوْ لَنَکَلْتُہُمْ ، أَوْ لَجَعَلْتُہُمْ نَکَالاً، وَمَا قَبِلْتُ لَہُمْ شَہَادَۃً۔
(٢٨٤٣٢) حضرت یحییٰ بن ابو اسحاق فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت سالم بن عبداللہ کو یوں فرماتے ہوئے سنا : جبکہ بنو لیث کی ایک قوم اس بات کے لیے تیار ہوگئی تیہ کہ وہ اگلے دن قسامۃ کے معاملہ میں قسم اٹھائے گی اس پر آپ نے فرمایا : اے اللہ کے بندو ! قوم کے لوگ قسم اٹھائیں گے ایسی بات پر جو انھوں نے نہیں دیکھی اور نہ وہ موجود تھے اور نہ وہ اس پر گواہ تھے۔ اور اگر مجھے اس معاملہ میں اختیار ہوتا تو میں ان کو ضرور سزا دیتا یا یوں فرمایا : کہ میں ان کو عبرتناک سزا دیتا یا میں ان کو قابل عبرت بنا دیتا اور میں ان کی گواہی قبول نہ کرتا۔