(۲۸۴۴۸) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَیْدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، قَالَ : حدَّثَنِی مَکْحُولٌ ، قَالَ : لَمَّا قَدِمَ عَلَیْنَا عُمَرُ بَیْتَ الْمَقْدِسِ أَعْطَی عُبَادَۃُ بْنُ الصَّامِتِ رَجُلاً مِنْ أَہْلِ الذِّمَّۃِ دَابَّتَہُ یُمْسِکُہَا ، فَأَبَی عَلَیْہِ فَشَجَّہُ مُوضِحَۃً ، ثُمَّ دَخَلَ الْمَسْجِدَ ، فَلَمَّا خَرَجَ عُمَرُ صَاحَ النَّبَطِیُّ إِلَی عُمَرَ ، فَقَالَ عُمَرُ : مَنْ صَاحِبُ ہَذَا ؟ قَالَ عُبَادَۃُ : أَنَا صَاحِبُ ہَذَا ، قَالَ : مَا أَرَدْتَ إِلَی ہَذَا ؟ قَالَ : أَعْطَیُْتہُ دَابَّتِی یُمْسِکُہَا فَأَبَی ، وَکُنْتُ امْرَئًا فِی حَدٍّ ، قَالَ : إِمَّا لاَ ، فَاقْعُدْ لِلْقَوَدِ ، فَقَالَ لَہُ زَیْدُ بْنُ ثَابِتٍ : مَا کُنْتَ لِتَقِیدَ عَبْدَک مِنْ أَخِیک ، قَالَ : أَمَا وَاللَّہِ لَئِنْ تَجَافَیْتُ لَکَ عَنِ الْقَوَدِ لأُعْنِتَنَّکَ فِی الدِّیَۃِ ، أَعْطِہِ عَقْلَہَا مَرَّتَیْنِ۔
(٢٨٤٤٨) حضرت مکحول بیان کرتے ہیں کہ جب حضرت عمر ہمارے پاس بیت المقدس تشریف لائے تو حضرت عبادہ بن صامت نے اپنی سواری ایک ذمی شخص کو دی تاکہ وہ اس کو پکڑ کے رکھے پس اس نے انکار کردیا تو آپ نے اس کو گہرا زخم پہنچا دیا پھر وہ مسجد میں داخل ہوگئے جب حضرت عمر کو چیخ کی آواز سنائی دی تو حضرت عمر کہنے لگے : اس کو تکلیف پہنچانے والا کون ہے ؟ حضرت عبادہ نے کہا : میں اس کا مطلوب ہوں۔ آپ نے پوچھا : تم نے اس سے کیا معاملہ کیا ؟ انھوں نے فرمایا : میں نے اسے اپنی سواری دی کہ یہ اسے پکڑ لے تو اس نے انکار کردیا اور میں ایسا آدمی ہوں کہ مجھ میں حد جاری ہوگئی آپ نے فرمایا : ایسا نہیں ہے پس تم قصاص کے لیے بیٹھ جاؤ اس پر حضرت زید بن ثابت نے ان سے فرمایا : نہیں اپنے غلام کو اپنے بھائی سے قصاص نہیں دلوا سکتے۔ آپ نے فرمایا : بہرحال اللہ کی قسم ! اگر میں نے تیرے قصاص کو چھوڑ دیا تو میں ضرور بہ ضرور دیت کے بارے میں تجھے مشقت میں ڈالوں گا تم اسے دو مرتبہ اس کی دیت ادا کرو۔