(۲۸۴۵۰) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ سُفْیَانَ ، عَن خَالِدٍ النِّیلِیِّ ، عَنِ الْحَکَمِ ، وَحَمَّادٍ ؛ أَنَّہُمَا قَالاَ فِی رَجُلٍ شَجَّ رَجُلاً فَذَہَبَتْ عَیْنُہُ ، فَقَالَ الْحَکَمُ : إِنْ شَہِدُوا أَنَّہَا ذَہَبَتْ مِنَ الضَّرْبَۃِ ، فَہُوَ جَائِزٌ ، وَقَالَ حَمَّادٌ : إِنْ شَہِدُوا أَنَّہُ ضَرَبَہُ یَوْمَ ضَرَبَہُ وَہِیَ صَحِیحَۃٌ ، فَہُوَ جَائِزٌ۔
(٢٨٤٥٠) حضرت خالد النیلی فرماتے ہیں کہ حضرت حکم اور حضرت حماد نے ایسے آدمی کے بارے میں ارشاد فرمایا جس نے ایک آدمی کے سر کو زخمی کردیا تو اس کی بینائی ختم ہوگئی اس پر حضرت حماد نے فرمایا : اگر لوگ گواہی دیں کہ اس کے مارنے کی وجہ سے اس کی بینائی گئی تو یہ جائز ہے اور حضرت حماد نے فرمایا : اگر لوگ گواہی دیں کہ اس نے جس دن اسے مارا تو اس کی آنکھ صحیح تھی تو اس صورت میں جائز ہے۔