(۲۸۴۷۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَیْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنَی عَمَرَّد ؛ أَنَّ حُیَیَّ بْنَ یَعْلَی أَخْبَرَہُ ، أَنَّہُ سَمِعَ یَعْلَی یُخْبِرُ ؛ أَنَّ رَجُلاً أَتَی یَعْلَی ، فَقَالَ لَہُ : قَاتِلِی ہَذَا ، فَدَفَعَہُ إِلَیْہِ یَعْلَی ،فَجَدَعُوہُ بِسُیُوفِہِمْ ، حَتَّی رُؤُوا أَنَّہُمْ قَتَلُوہُ وَبِہِ رَمَقٌ ، فَأَخَذَہُ أَہْلُہُ فَدَاوُوہُ حَتَّی بَرِأَ ، فَجَائَ یَعْلَی ،فَقَالَ : أَوَلَسْتُ قَدْ دَفَعْتُہُ إِلَیْک ؟ فَأَخْبَرَہُ خَبَرَہُ ، فَدَعَاہُ یَعْلَی ، فَوَجَدَہُ قَدْ شُلِّلَ ، فَحُسِبَتْ جُرُوحُہُ فَوَجَدُوا فِیہِ الدِّیَۃَ ، فَقَالَ لَہُ یَعْلَی : إِنْ شِئْتَ فَادْفَعْ إِلَیْہِ دِیَتَہُ وَاقْتُلْہُ ، وَإِلاَّ فَدَعْہُ ، فَلَحِقَ بِعُمَرَ فَاسْتَأْدَی عَلَی یَعْلَی ، فَاتَّفَقَ عُمَرُ وَعَلِیٌّ عَلَی قَضَائِ یَعْلَی، أَنْ یَدْفَعَ إِلَیْہِ الدِّیَۃَ وَیَقْتُلَہُ ، أَوْ یَدَعَہُ فَلاَ یَقْتُلُہُ ، وَقَالَ عُمَرُ لِیَعْلَی : إِنَّک لَقَاضٍ ، ثُمَّ رَدَّہُ إِلَی عَمَلِہِ۔
(٢٨٤٧١) حضرت حیی بن یعلی بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت یعلی کے پاس آیا اور آپ سے کہا مجھے مارنے والا یہ شخص ہے تو حضرت یعلی نے وہ آدمی اس کے حوالہ کردیا ان لوگوں نے اس کو اپنی تلواروں سے خوب مارا یہاں تک کہ وہ سمجھے کہ انھوں نے اس کو ماردیا ہے حالانکہ اس میں زندگی کی رمق باقی تھی پس اس کے گھر والوں نے اس کو لے لیا اور اس کا علاج کروایا یہاں تک کہ وہ تندرست ہوگیا۔ حضرت یعلی آئے اور فرمایا : کیا میں نے اسے تمہارے حوالہ نہیں کردیا تھا ؟ تو اس نے آپ کو اس کے بارے میں خبر دی حضرت یعلی نے اس کو بلایا تو آپ کو اس کے جسم پر زخموں کے نشان پائے اور اس کے زخم سفید ہوچکے تھے پھر ان لوگوں نے اس میں دیت لینا چاہی تو حضرت یعلی نے اس شخص سے کہا : اگر تو چاہے تو اس کو اس کی دیت ادا کردے اور اسے قتل کردے وگرنہ اس کو چھوڑ دو پس وہ شخص حضرت عمر سے ملا اور حضرت یعلی کے خلاف آپ سے مدد چاہی لیکن حضرت عمر اور حضرت علی ان دونوں حضرات نے حضرت یعلی کے فیصلہ پر اتفاق کیا کہ اس بچنے والے کو پہلے دیت ادا کی جائے اور اس کو قتل کردیا جائے یا اس کو چھوڑ دو اور قتل مت کرو۔ اور حضرت عمر نے حضرت یعلی سے فرمایا : یقیناً تم تو قاضی ہو پھر آپ نے ان کو ان کے کام کی طرف واپس لوٹا دیا۔