(۲۸۴۷۶) حَدَّثَنَا زَیْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَن خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللہِ ، عَن خَالِدٍ الْحَذَّائِ ، عَنْ أَبَانَ بْنِ عُثْمَانَ ؛ أَنَّہُ رُفِعَ إِلَیْہِ رَجُلٌ تَزَوَّجَ جَارِیَۃً فَأَفْضَاہَا ، فَقَالَ فِیہَا ہُوَ وَعُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِیزِ : إِنْ کَانَتْ مِمَّنْ یُجَامَعُ مِثْلُہَا فَلاَ شَیْئَ عَلَیْہِ ، وَإِنْ کَانَتْ مِمَّنْ لاَ یُجَامَعُ مِثْلُہَا ، فَعَلَیْہِ ثُلُثُ الدِّیَۃِ۔
(٢٨٤٧٦) حضرت خالد حذا فرماتے ہیں کہ حضرت أبان بن عثمان کے سامنے ایسے آدمی کو پیش کیا گیا جس نے ایک لڑکی سے شادی کی اور اس کے دونوں راستوں کو ایک کردیا تو اس بارے میں آپ نے اور حضرت عمر بن عبدالعزیز نے فرمایا : اگر تو وہ لڑکی ان میں سے تھی کہ اس جیسی لڑکیوں سے جماع کیا جاتا ہے تو اس شخص پر کوئی چیز لازم نہیں ہوگی اور اگر وہ لڑکی ان میں سے تھی کہ اس جیسی لڑکیوں سے جماع نہیں کیا جاتا تو اس شخص پر تہائی دیت لازم ہوگی۔