(۲۸۵۲۰) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا رَبِیعَۃُ بْنُ عُثْمَانَ التَّیْمِیُّ ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاہِیمَ ؛ أَنَّ أَبَا مُوسَی کَتَبَ إِلَی عُمَرَ : إِنَّ الرَّجُل یَمُوتُ قِبَلَنَا وَلَیْسَ لَہُ رَحِمٌ ، وَلاَ وَلِیٌّ ، قَالَ : فَکَتَبَ إِلَیْہِ عُمَرُ : إِنْ تَرَکَ ذَا رَحِمٍ فَالرَّحِمُ ، وَإِلاَّ فَالْوَلاَئُ ، وَإِلاَّ فَبَیْتُ الْمَالِ یَرِثُونَہُ ، وَیَعْقِلُونَ عَنْہُ۔
(٢٨٥٢٠) حضرت سعدبن ابرہیم فرماتے ہیں کہ حضرت ابو موسیٰ نے حضرت عمر کو خط لکھا : بیشک ہمارے ہاں ایک آدمی مرگیا اور اس کا نہ تو کوئی رشتہ دار ہے اور نہ ہی کوئی ولی۔ حضرت عمر نے آپ کو جواب لکھا : اگر اس نے کوئی رشتہ دار چھوڑا ہے تو رشتہ دار حقدار ہے ورنہ اس کے سرپرست اگر وہ بھی نہیں ہیں تو بیت المال اس کا وارث بنے گا اور وہی اس کی طرف سے دیت ادا کرے گا۔