(۲۸۵۵۲) حَدَّثَنَا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ ، عَنْ سُفْیَانَ بْنِ حُسَیْنٍ ، عَنِ ابْنِ أَشْوَعَ ، عَنِ الشَّعْبِیِّ ، قَالَ : کَانَ بَیْنَ حَیَّیْنِ مِنَ الْعَرَبِ قِتَالٌ ، فَقُتِلَ مِنْ ہَؤُلاَئِ وَمِنْ ہَؤُلاَئِ ، فَقَالَ أَحَدُ الْحَیَّیْنِ : لاَ نَرْضَی حَتَّی نَقْتُلَ بِالْمَرْأَۃِ الرَّجُلَ ، وَبِالرَّجُلِ الرَّجُلَیْنِ ، قَالَ : فَأَبَی عَلَیْہِم الآخَرُونَ ، فَارْتَفَعُوا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : الْقَتْلُ بَوَائٌ ، أَیْ سَوَائٌ ، قَالَ : فَاصْطَلَحَ الْقَوْمُ بَیْنَہُمْ عَلَی الدِّیَاتِ۔ قَالَ : فَحَسَبُوا لِلرَّجُلِ دِیَۃَ الرَّجُلِ ، وَلِلْمَرْأَۃِ دِیَۃَ الْمَرْأَۃِ ، وَلِلْعَبْدِ دِیَۃَ الْعَبْدِ ، فَقََضَی لأَحَدِ الْحَیَّیْنِ عَلَی الآخَرِ ، قَالَ : فَہُوَ قَوْلُہُ : {یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الْقِصَاصُ فِی الْقَتْلَی الْحُرُّ بِالْحُرِّ ، وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ ، وَالأُنْثَی بِالأُنْثَی}۔
قَالَ سُفْیَانُ : {فَمَنْ عُفِیَ لَہُ مِنْ أَخِیہِ شَیْئٌ} ، قَالَ : فَمَنْ فَضَلَ لَہُ عَلَی أَخِیہِ شَیْئٌ فَلْیُؤَدِّہِ بِالْمَعْرُوفِ ، وَلِیَتْبَعہُ الطَّالِبُ بِإِحْسَانٍ ، إِلَی قَولِہِ : {عَذَابٌ أَلِیمٌ}۔
(٢٨٥٥٢) حضرت ابن اشوع فرماتے ہیں کہ حضرت شعبی نے ارشاد فرمایا : عرب کے دو قبیلوں کے درمیان لڑائی تھی۔ سو اس قبیلہ کے کچھ افراد قتل ہوئے اور اس قبیلہ کے بھی کچھ افراد قتل ہوگئے۔ ان قبیلوں میں سے ایک نے کہا : ہم راضی نہیں ہوں گے یہاں تک کہ ہم عورت کے بدلے مں ف آدمی کو اور آدمی کے بدلے میں دو آدمیوں کو قتل کریں : دوسرے قبیلے والوں نے اس بات کا انکار کردیا، پھر انھوں نے یہ معاملہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں پیش کردیا۔ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : قتل کا معاملہ برا بری کا ہے۔ سو لوگوں نے اپنے درمیان دیتوں کی اصطلاح قائم کرلی۔ انھوں نے آدی کے لیے آدمی کی دیت عورت کے لیے عورت کی دیت اور غلام کے لیے غلام کی دیت کو کافی سمجھا۔ اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے دونوں قبیلوں میں سے ایک کے لیے دوسرے پر یوں فیصلہ فرمایا : راوی کہتے ہیں وہ فیصلہ اللہ رب العزت کا یہ قول ہے : ترجمہ :۔ اے ایمان والو ! فرض کردیا گیا ہے تم پر مقتولوں کا قصاص لینا قتل کیا جائے آزاد کو آزاد کے بدلے میں ، اور غلام کو غلام کے بدلے میں اور عورت کو عورت کے بدلے میں۔ حضرت سفیان بن حسن نے فرمایا : آیت : سو وہ شخص جس کو معاف کردیا جائے اس کے بھائی کی طرف سے قصاص میں سے کچھ۔ آپ فرمایا : مراد یہ ہے کہ جس نے اپنے بھائی پر کچھ اس مں فضل کردیا تو اس کو چاہیے کہ وہ اس کو معروف طریقہ سے ادائیگی کرے۔ اور طالب احسن انداز میں اس کی پیروی کرے اللہ رب العزت کے قول { عَذَابٌ أَلِیمٌ} تک۔