(۲۸۵۵۷) حَدَّثَنَا وَکِیعٌ ، قَالَ : حدَّثَنَا ابْنُ أَبِی خَالِدٍ ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ : جَائَ رَجُلٌ إِلَی شُرَیْحٍ ، فَقَالَ : إِنَّ شَاۃَ ہَذَا قَطَعَتْ غَزْلِی ، فَقَالَ : لَیْلاً ، أَوْ نَہَارًا ؟ فَإِنْ کَانَ نَہَارًا ، فَقَدْ بَرِئَ ، وَإِنْ کَانَ لَیْلاً ، فَقَدْ ضَمِنَ ، وَقَرَأَ : {إِذْ نَفَشَتْ فِیہِ غَنَمُ الْقَوْمِ} ، وَقَالَ : إِنَّمَا کَانَ النَّفْشُ بِاللَّیْلِ۔
(٢٨٥٥٧) حضرت عامر فرماتے ہیں کہ ایک آدمی حضرت شریح کے پاس آیا اور کہنے لگا اس آدمی کی بکری نے میرا کاتا ہوا کپڑا کاٹ دیا آپ نے اس سے پوچھا : دن میں یا رات میں ؟ اگر دن ہوا تو شخص بری ہوگا اور اگر رات تھی تو تحقیق وہ شخص ضامن ہوگا اور آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی ترجمہ :۔ جب جا گھسیں بکریاں اس میں لوگوں کی اور فرمایا : بیشک بکریوں کا گھسنا رات میں ہو تو ضمان ہوتا ہے۔