(۲۸۵۸۰) حَدَّثَنَا جَرِیرٌ ، عَنْ مُغِیرَۃَ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ؛ فِی قَوْلِہِ تَعَالَی : {وَمَنْ قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ وَدِیَۃٌ مُسَلَّمَۃٌ إِلَی أَہْلِہِ} ، إِذَا قُتِلَ الْمُسْلِمُ فَہَذَا لَہُ وَلِوَرَثَتِہِ الْمُسْلِمِینَ ، {فَإِنْ کَانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَہُوَ مُؤْمِنٌ}، الرَّجُلُ الْمُسْلِمُ یقْتَلُ وَقَوْمُہُ مُشْرِکُونَ، لَیْسَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہْدٌ، فَعَلَیْہِ تَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ ، وَإِنْ قَتَلَ مُسْلِمًا مِنْ قَوْمٍ مُشْرِکِینَ وَبَیْنَہُمْ وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہْدٌ ، فَعَلَیْہِ تَحْرِیرُ رَقَبَۃٍ مُؤْمِنَۃٍ ، وَتُؤَدَی دِیَتُہُ إِلَی قَوْمِہِ الَّذِینَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہْدٌ ، فَیَکُونُ مِیرَاثُہُ لِلْمُسْلِمِینَ ، وَیَکُونُ عَقْلُہُ لِقَوْمِہِ الْمُشْرِکِینَ الَّذِینَ بَیْنَہُمْ وَبَیْنَ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَہْدٌ ، فَیَرِثُ الْمُسْلِمُونَ مِیرَاثَہُ ، وَیَکُونُ عَقْلُہُ لِقَوْمِہِ لأَنَّہُمْ یَعْقِلُونَ عَنْہُ۔
(٢٨٥٨٠) حضرت مغیرہ فرماتے ہیں کہ اللہ رب العزت کے قول : اور جس نے قتل کردیا کسی مومن کو غلطی سے تو آزاد کرے ایک مومن غلام اور مقتول بہا اد کیا جائے مقتول کے وارثوں کو اس آیت کے بارے میں حضرت ابراہیم نے فرمایا : جب مسلمان کو قتل کردیا جائے تو یہ حکم اس کے لیے اور اس کے مسلمان ورثاء کے لیے ہے اور آیت اور پھر مقتول اگر ایسی قوم میں سے ہو جو قوم تمہاری دشمن اور وہ مومن ہو۔ اس آیت کے بارے میں آپ نے فرمایا : وہ مسلمان آدمی جو قتل کردے اس حال میں کہ اس کی قوم مشرک ہو ان کے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان کوئی معاہدہ نہ ہو تو اس پر ایک مسلمان غلام آزاد کرنا لازم ہے اور اگر اس نے کسی مسلمان کو قتل کردیا جس کا تعلق مشرکوں کی قوم سے تھا اور اس قوم اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان معاہدہ تھا تو اس پر ایک مسلمان غلام کا آزاد کرنا ضروری ہے اور اس کی دیت ادا کی جائے گی اس قوم کو جس کے درمیان اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان معاہدہ تھا اور اس کی وراثت مسلمانوں کے لیے ہوگی۔ اور اس کی دیت اس مشرک قوم کے لیے ہوگی جس کے درمیان اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے درمیان معاہدہ تھا۔ پس مسلمان اس کی وراثت کے وارث ہوں گے اور اس کی دیت اس کی قوم کے لیے ہوگی اس لیے کہ وہی اس کی طرف سے دیت ادا کریں گے۔