(۲۸۶۰۵) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قُلْتُ لِعَطَائٍ : الْعَبْدُ یَقْتُلُ الْعَبْدَ عَمْدًا ، وَالْمَقْتُولُ خَیْرٌ مِنَ الْقَاتِلِ ؟ قَالَ : لَیْسَ لِسَادَۃِ الْمَقْتُولِ إِلاَّ قَاتِلُ عَبْدِہِمْ ، لَیْسَ لَہُمْ غَیْرَہُ۔ وَقَالَہَا عَمْرُو بْنُ دِیِنَارٍ : لَیْسَ لَہُمْ إِلاَّ قَاتِلُ عَبْدِہِم ، إِنْ شَاؤُوا قَتَلُوہُ ، وَإِنْ شَاؤُوا اسْتَرَقوہُ۔
(٢٨٦٠٥) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت عطائ سے دریافت کیا اس غلام کے متعلق جس نے قصداً ایک غلام کو قتل کردیا درا نحالی کہ مقتول قاتل سے بہتر تھا تو اس کا کیا حکم ہوگا ؟ آپ نے فرمایا : مقتول کے آقا کو صرف اپنے غلام قاتل ملے گا انھیں اس کے سوا کچھ نہیں ملے گا اور حضرت عمرو بن دینار نے اس کے جواب میں فرمایا : انھیں صرف اپنے غلام کا قاتل ملے گا اگر وہ چاہیں تو اسے قتل کردیں اور اگر چاہیں تو اسے غلام بنالیں۔