(۲۸۶۲۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَن سِمَاکٍ ، عَن قَابُوسَ بْنِ الْمُخَارِقِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا رَسُولَ اللہِ ، الرَّجُلُ یَأْتِینِی یُرِیدُ مَالِی ؟ قَالَ : ذَکِّرْہُ اللَّہَ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ یَذْکُرْ ؟ قَالَ : فَاسْتَعِنْ عَلَیْہِ بِمَنْ حَوْلَک مِنَ الْمُسْلِمِینَ ، قَالَ : فَإِنْ لَمْ یَکُنْ أَحَدٌ حَوْلِی مِنَ الْمُسْلِمِینَ ؟ قَالَ : فَاسْتَعِنْ عَلَیْہِ بِالسُّلْطَانِ ، قَالَ : فَإِنْ نَأَی عَنِّی السُّلْطَانُ ؟ قَالَ : فَقَاتِلْ دُونَ مَالِکَ حَتَّی تَمْنَعَ مَالَک ، وَتَکُونَ فِی شُہَدَائِ الآخِرَۃِ۔ (احمد ۲۹۴۔ طبرانی ۷۴۷)
(٢٨٦٢٤) حضرت مخارق فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا اور کہنے لگایا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! جو آدمی میرے مال کے ارادے سے میرے پاس آئے تو میرے لیے کیا حکم ہے ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اسے اللہ سے ڈرنے کی نصیحت کرو اس نے عرض کی، اگر وہ نصیحت نہ پکڑے تو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تو پھر تم اس کے خلاف اپنے اردگرد موجود مسلمانوں سے مدد مانگو، اس نے عرض کی اگر ان میں سے کوئی بھی نہ ہو تو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم بادشاہ سے اس کے خلاف مدد مانگو اس نے عرض کی اگر بادشاہ مجھ سے دور ہو تو ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : پھر تم اپنے مال کی حفاظت کرلو اور تم آخرت کے شہدا میں ہوجاؤ۔