(۲۸۶۴۱) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، عَنِ الْمُجَالِدِ ، قَالَ : حدَّثَنَی عَرِیفٌ لِجُہَیْنَۃَ ؛ أَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أُوتِیَ بِأَسِیرٍ فِی الشِّتَائِ ، فَقَالَ لأُِنَاسٍ مِنْ جُہَیْنَۃَ : اذْہَبُوا بِہِ فَأَدْفُوہُ ، قَالَ : وَکَانَ الدَّفْئُ بِلِسَانِہِمْ عِنْدَہُمُ الْقَتْلَ ، فَذَہَبُوا بِہِ فَقَتَلُوہُ ، فَسَأَلَہُمُ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بَعْدُ ؟ فَقَالُوا : یَا رَسُولَ اللہِ ، أَلَمْ تَأْمُرْنَا أَنْ نَقْتُلَہُ ، قَالَ: وَکَیْفَ قُلْتُ لَکُمْ؟ قَالَ : قُلْتَ لَنَا: اذْہَبُوا بِہِ فَأَدْفُوہُ، قَالَ: فَقَالَ: قَدْ شَرِکْتُکُمْ إِذًا، اعْقِلُوہُ وَأَنَا شَرِیکُکُمْ۔
قَالَ : فَحَدَّثْتُ ہَذَا الْحَدِیثَ عَامِرًا ، قَالَ : صَدَقَ ، وَعَرَفَ الْحَدِیثَ۔
(٢٨٦٤١) حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ قبیلہ جھینہ میں ایک نگران نے مجھے بیان کیا کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس سردیوں میں ایک قیدی لایا گیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قبیلہ جھینہ کے چند لوگوں سے فرمایا : تم اسے لے جاؤ اور اسے گرم لباس پہناؤ۔ راوی فرماتے ہیں کہ دف کا لفظ ان کی زبان میں قتل کے معنی میں استعمال ہوتا تھا۔ پس وہ اس شخص کو لے گئے اور انھوں نے اسے قتل کردیا سو بعد میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ان سے اس کے بارے میں پوچھا ؟ انھوں نے کہا یارسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ! کیا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسے قتل کرنے کا حکم نہیں دیا تھا ؟ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میں نے تمہیں کیسے کہا تھا ؟ تم اسے لے جاؤ اور اسے قتل کردو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تحقیق تب میں تمہارے ساتھ شریک ہوگیا۔ تم اس کی دیت ادا کرو اور میں تمہارا شریک ہوں۔ راوی کہتے ہیں : پس میں نے یہ حدیث حضرت عامر کو بیان کی آپ نے فرمایا : اس سچ کہا : اور آپ نے حدیث کو پہچان لیا۔