(۲۸۶۶۳) حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَیْرٍ ، قَالَ : حدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ طَلْحَۃَ بْنِ رُکَانَۃَ ، عَنْ أُمِّہِ عَائِشَۃَ بِنْتِ مَسْعُودِ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِیہَا مَسْعُودٍ ، قَالَ : لَمَّا سَرَقَتِ الْمَرْأَۃُ تِلْکَ الْقَطِیفَۃَ مِنْ بَیْتِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَعْظَمْنَا ذَلِکَ ، وَکَانَتِ الْمَرْأَۃُ مِنْ قُرَیْشٍ ، فَجِئْنَا إِلَی النَّبِیِّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نُکَلِّمُہُ وَقُلْنَا : نَحْنُ نَفْدِیہَا بِأَرْبَعِینَ أُوقِیَّۃً ، قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : تَطَّہَّرُ خَیْرٌ لَہَا ، فَلَمَّا سَمِعْنَا لِینَ قَوْلِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، أَتَیْنَا أُسَامَۃَ ، فَقُلْنَا : کَلِّمْ رَسُولَ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، فَلَمَّا رَأَی رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَلِکَ ، قَامَ خَطِیبًا ، فَقَالَ : مَا إِکْثَارُکُمْ عَلَیَّ فِی حَدٍّ مِنْ حُدُودِ اللہِ ، وَقَعَ عَلَی أَمَۃٍ مِنْ إِمَائِ اللہِ ؟ وَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ ، لَوْ کَانَتْ فَاطِمَۃُ بِنْتُ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ نَزَلَتْ بِالَّذِی نَزَلَتْ بِہِ ، لَقَطَعَ مُحَمَّدٌ یَدَہَا۔ (احمد ۴۰۹۔ طبرانی ۷۹۲)
(٢٨٦٦٣) حضرت مسعود فرماتے ہیں کہ جب اس عورت نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے گھر سے چادر چوری کی تو ہم نے اس بات کو بہت بڑا سمجھا، اور اس عورت کا تعلق قریش سے تھا پس ہم لوگ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بات چیت کرنے کے لیے آئے اور ہم نے عرض کی : ہم اس عورت کا چالیس اوقیہ چاندی فدیہ دیں گے، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : وہ پاک ہوجائے یہ اس کے لیے بہت رہے۔ جب ہم لوگوں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نرم بات سنی تو ہم حضرت اسامہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے آئے اور ہم نے کہا : آپ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے اس بارے میں بات کریں جب رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے یہ معاملہ دیکھا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خطبہ ارشاد فرمانے کے لیے کھڑے ہوگئے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اللہ کی سزاؤں میں سے ایک سزا کے بارے میں مجھ پر کیوں اپنی تعداد کو بڑھا رہے ہو جو اللہ کی بندیوں میں سے ایک بندی پر ثابت ہوچکی ہے ؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے اگر فاطمہ بنت محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی اس مقام پر اترتی جس مقام پر آج یہ عورت اتری ہے تو محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ضرور اس کا ہاتھ کاٹ دیتے۔