(۲۸۷۲۴) حَدَّثَنَا ابْنُ مُبَارَکٍ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَی عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ ، فَسَأَلَنِی عَنِ الْعَبْدِ الآبِقِ السَّارِقِ یُقْطَعُ ؟ فَقُلْتُ : مَا بَلَغَنِی فِیہِ شَیْئٌ ، فَلَمَّا قَدِمْتُ الْمَدِینَۃَ لَقِیتُ سَالِمَ بْنَ عَبْدِ اللہِ ، فَأَخْبَرَنِی أَنَّ عَبْدَ اللہِ بْنَ عُمَرَ قَطَعَ عَبْدًا لَہُ ، سَارِقًا ، آبِقًا۔
(٢٨٧٢٤) حضرت زہری فرماتے ہیں کہ میں حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس داخل ہوا تو آپ نے مجھ سے بھگوڑے چور غلام کے متعلق سوال کیا کہ اس کا ہاتھ کاٹا جائے گا ؟ میں نے عرض کی، مجھے اس بارے میں کوئی روایت نہیں پہنچی۔ پس جب میں مدینہ منورہ آیا تو میں حضرت سالم بن عبداللہ سے ملا پس، آپ نے مجھے خبردی کہ حضرت عبداللہ بن عمر نے اپنے ایک غلام کا ہاتھ کاٹا تھا جو چور اور بھگوڑا تھا۔