(۲۸۷۵۹) حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَکْرٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَیْجٍ ، قَالَ : قَالَ ابْنُ شِہَابٍ فِی رَجُلٍ سَرَقَ ، ثُمَّ شُہِدَ عَلَیْہِ أَنَّہُ قَدْ سَرَقَ قَبْلَ ذَلِکَ مِرَارًا ، أَوِ اعْتَرَفَ مَعَ عُقُوبَتِہِ ؟ قَالَ : تُقْطَعُ یَدُہُ ، وَقَالَ ابْنُ شِہَابٍ فِی رَجُلٍ زَنَی فَشُہِدَ عَلَیْہِ ، أَوِ اعْتَرَفَ بِذَلِکَ ، قَالَ : یُقَامُ عَلَیْہِ حَدٌّ وَاحِدٌ۔
(٢٨٧٥٩) حضرت ابن جریج فرماتے ہیں کہ حضرت ابن شہاب سے ایسے آدمی کے بارے میں پوچھا گیا جس نے چوری کی تھی پھر اس کے خلاف گواہی دی گئی کہ اس نے اس سے پہلے کئی مرتبہ چوری کی ہے یا اس نے خود اپنی سزا کے ساتھ اس بات کا اعتراف کرلیا ہو تو اس کا کیا حکم ہے ؟ آپ نے فرمایا : اس کا ہاتھ کاٹ دیا جائے گا اور حضرت ابن شہاب نے یوں بھی فرمایا : ایک آدمی نے زنا کیا پس اس کے خلاف گواہی دی گئی یا اس نے خود اس بات کا اعتراف کرلیاتو اس پر بھی ایک ہی حد قائم کی جائے گی۔