(۲۸۷۷۴) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِیہِ ، قَالَ : کُنْتُ قَاعِدًا عِندَ عَلِیٍّ فَجَائَ رَجُلٌ ، فَقَالَ : یَا أَمِیرَ الْمُؤْمِنِینَ ، إِنِّی قَدْ سَرَقْتُ ، فَانْتَہَرَہُ ، ثُمَّ عَادَ الثَّانِیَۃَ ، فَقَالَ : إِنِّی قَدْ سَرَقْتُ ، فَقَالَ لَہُ عَلِیٌّ : قَدْ شَہِدْتَ عَلَی نَفْسِکَ شَہَادَتَیْنِ ، قَالَ : فَأَمَرَ بِہِ فَقُطِعَتْ یَدُہُ ، فَرَأَیْتُہَا مُعَلَّقَۃً ، یَعْنِی فِی عُنُقِہِ۔
(٢٨٧٧٤) حضرت عبدالرحمن فرماتے ہیں کہ میں حضرت علی کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ ایک آدمی آیا اور کہنے لگا ! اے امیرالمومنین ! بیشک میں نے چوری کی ہے پس آپ نے اس کو خوب جھڑک دیا، وہ دوسری مرتبہ پھر لوٹا اور کہنے لگا بیشک میں نے چوری کی ہے اس پر حضرت علی نے اس سے فرمایا : تحقیق تو نے اپنے خلاف دو مرتبہ گواہی دے دی ہے۔ راوی کہتے ہیں : پس آپ نے اس کے بارے میں حکم دیا تو اس کا ہاتھ کاٹ دیا گیا میں نے اس کے ہاتھ کو لٹکے ہوئے دیکھا اس کی گردن میں۔