(۲۸۸۲۲) حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَۃَ ، قَالَ : حدَّثَنَی جَرِیرُ بْنُ حَازِمٍ ، قَالَ : قَرَأْتُ کِتَابَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِیزِ إِلَی عَدِیِّ بْنِ أَرْطَاۃَ : أَمَّا بَعْدُ ، کَتَبْتَ تَسْأَلُ عَنِ الْعَبْدِ یَقْفُو الْحُرَّ ، کَمْ یُجْلَدُ ، وَذَکَرْتَ أَنَّہُ بَلَغَک أَنِّی کُنْتُ أَجْلِدُہُ إِذْ أَنَا بِالْمَدِینَۃِ أَرْبَعِینَ جَلْدَۃً ، ثُمَّ جَلَدْتُہُ فِی آخِرِ عَمَلِی ثَمَانِینَ جَلْدَۃً ، وَإِنَّ جَلْدِی الأَوَّلَ کَانَ رَأْیًا رَأَیْتُہُ ، وَإِنَّ جِلْدِیَّ الأَخِیرَ وَافَقَ کِتَابَ اللہِ ، فَاجْلِدْہُ ثَمَانِینَ جَلْدَۃً۔
(٢٨٨٢٢) حضرت جریر بن حازم فرماتے ہیں کہ میں نے عدی بن ارطاہ کو لکھے گئے حضرت عمر بن عبدالعزیز کے خط کو پڑھا، حمد و صلوۃ کے بعد آپ نے اس غلام کے متعلق پوچھا جس نے آزاد پر بری تہمت لگائی ہو کہ اس کو کتنے کوڑے لگائے جائیں گے، اور آپ نے ذکر کیا ہے کہ آپ کو خبر پہنچی ہے کہ میں جب مدینہ میں تھا تو میں نے غلام کو چالیس کوڑے لگائے تھے پھر میں نے اس غلام کو اپنے آخری عمل میں اسی کوڑے لگائے تھے اور بیشک میں نے جو پہلے کوڑے مارے تھے وہ میری اپنی رائے تھی جو میں نے قائم کی تھی اور بیشک میں نے آخری عمل میں جو کوڑے مارے تھے وہ کتاب اللہ سے موافقت تھی پس تم بھی اسے اسی کوڑے مارو۔