(۲۸۸۶۲) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ الأَعْلَی ، عَنْ أَبِی جَمِیلَۃَ ، عَنْ عَلِیٍّ ، قَالَ : أُخْبِرَ النَّبِیُّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِأَمَۃٍ لَہُمْ فَجَرَتْ ، فَأَرْسَلَنِی إِلَیْہَا ، فَقَالَ : اذْہَبْ فَأَقِمْ عَلَیْہَا الْحَدَّ ، فَانْطَلَقْتُ فَوَجَدْتہَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دِمَائِہَا ، فَقَالَ : أَفْرَغْتَ ؟ فَقُلْتُ : وَجَدْتہَا لَمْ تَجِفَّ مِنْ دِمَائِہَا ، قَالَ : إِذَا جَفَّتْ مِنْ دِمَائِہَا فَاجْلِدْہَا ، ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ : وَأَقِیمُوا الْحُدُودَ عَلَی مَا مَلَکَتْ أَیْمَانُکُمْ۔
(ابوداؤد ۴۴۶۸۔ احمد ۸۹)
(٢٨٨٦٢) حضرت علی فرماتے ہیں کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو لوگوں کی ایک باندی کے متعلق خبر دی گئی کہ اس نے گناہ کیا ہے تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے اس کی طرف بھیجا اور فرمایا : تم جا کر اس پر حد قائم کرو پس میں گیا تو میں نے اس کو اس حال میں پایا کہ اس کا خون خشک نہیں ہوا تھا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا تم فارغ ہوگئے ؟ میں نے عرض کی کہ میں نے اسے اس حال میں پایا کہ اس کا خون خشک نہیں ہوا تھا ! آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب اس کا خون خشک ہوجائے تو تم اسے کوڑے مارنا پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ارشاد فرمایا : تم اپنے ماتحتوں پر حد قائم کرو۔