(۲۸۹۶۵) حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِیسَ ، عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ ، عَنْ أَبِی الرِّجَالِ ، عَن أُمِّہِ عَمْرَۃَ ، قَالَتْ : اسْتَبَّ رَجُلاَنِ ، فَقَالَ أَحَدُہُمَا : مَا أُمِّی بِزَانِیَۃٍ ، وَمَا أَبِی بِزَانٍ ، فَشَاوَرَ عُمَرُ الْقَوْمَ ، فَقَالُوا : مَدَحَ أَبَاہُ وَأُمَّہُ ، فَقَالَ : لَقَدْ کَانَ لَہُمَا مِنَ الْمَدْحِ غَیْرُ ہَذَا ، فَضَرَبَہُ۔
(٢٨٩٦٥) حضرت ابو الرجال فرماتے ہیں کہ ان کی والدہ حضرت عمرہ نے ارشاد فرمایا : دو آدمیوں نے ایک دوسرے کو گالیاں دیں، پس ان میں سے ایک کہنے لگا : میری ماں زانیہ عورت نہیں ہے اور میرا باپ بھی زانی نہیں، تو حضرت عمر نے اس بارے میں لوگوں سے مشورہ لیا، لوگوں نے کہا، اس نے تو اپنے باپ اور ماں کی تعریف کی ہے آپ نے فرمایا : ان دونوں کے لیے اس کے علاوہ بھی تعریف ہوسکتی تھی، پس آپ نے اس پر حد لگائی۔