(۲۸۹۹۱) حَدَّثَنَا ابْنُ مُسْہِرٍ، عَنِ الشَّیْبَانِیِّ، عَن حَسَّانَ بْنِ مُخَارِقٍ، قَالَ: بَلَغَنِی أَنَّ رَجُلاً سَایَرَ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ فِی سَفَرٍ وَکَانَ صَائِمًا ، فَلَمَّا أَفْطَرَ أَہْوَی إِلَی قِرْبَۃٍ لِعُمَرَ مُعَلَّقَۃٍ فِیہَا نَبِیذٌ قَدْ خَضْخَضَہَا الْبَعِیرُ ، فَشَرِبَ مِنْہَا فَسَکِرَ ، فَضَرَبَہُ عُمَرُ الْحَدَّ ، فَقَالَ لَہُ : إِنَّمَا شَرِبْت مِنْ قِرْبَتِکَ ؟فَقَالَ لَہُ عُمَرُ : إِنَّمَا جَلَدْنَاک لِسُکْرِک۔
(٢٨٩٩١) حضرت حسان بن مخارق فرماتے ہیں کہ مجھے خبر پہنچی کہ ایک آدمی حضرت عمر بن خطاب کے ہمر اہ سفر میں گیا درآنحالیکہ وہ روزہ دار تھا جب اس نے روزہ افطار کرلیا تو اس نے اپنا ہاتھ حضرت عمر کے چمڑے کے مشکیزے کی طرف بڑھایا جو لٹکا ہوا تھا اور اس میں نبیذ موجود تھی جس کو اونٹ نے خوب ہلادیا تھا۔ پس اس شخص اسے پی لیا اور نشہ میں مدہوش ہوگیا اس پر حضرت عمر نے اس پر حد لگائی اس نے آپ سے کہا : بیشک میں نے تو تمہارے مشکیزے سے پی تھی ؟ آپ نے اس سے فرمایا : بیشک ہم نے تمہارے نشہ میں مدہوش ہونے کی وجہ سے تمہیں کوڑے مارے ہیں۔