(۲۸۹۹۸) حَدَّثَنَا ابْنُ عُلَیَّۃَ ، عَنِ ابْنِ أَبِی عَرُوبَۃَ ، عَنْ عَبْدِ اللہِ الدَّانَاجِ ، عَنْ حُضَیْنٍ أَبِی سَاسَانَ ؛ أَنَّہُ رَکِبَ أناسٌ مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ إِلَی عُثْمَانَ ، فَأَخْبَرُوہُ بِمَا کَانَ مِنْ أَمْرِ الْوَلِیدِ بْنِ عُقْبَۃَ مِنْ شُرْبِ الْخَمْرِ ، فَکُلِّمَہُ فِی ذَلِکَ عَلِیٌّ ، فَقَالَ عُثْمَانُ : دُونَک ابْنَ عَمِّکَ ، فَأَقِمْ عَلَیْہِ الْحَدَّ ، فَقَالَ عَلِیٌّ : قُمْ یَا حَسَنُ فَاجْلِدْہُ ، فَقَالَ : فِیمَ أَنْتَ مِنْ ہَذَا ؟ َولِّ ہَذَا غَیْرَک ، قَالَ : بَلْ ضَعُفْتَ ، وَوَہَنْتَ وَعَجَزْتَ ، قُمْ یَا عَبْدَ اللہِ بْنَ جَعْفَرٍ ، فَجَعَلَ یَجْلِدُہُ ، وَیَعُدُّ عَلِیٌّ حَتَّی بَلَغَ أَرْبَعِینَ ، فَقَالَ : کُفَّ ، أَوْ أَمْسِکْ ، جَلَدَ رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعِینَ ، وَأَبُو بَکْرٍ أَرْبَعِینَ ، وَکَمَّلَہَا عُمَرُ ثَمَانِینَ ، وَکُلٌّ سُنَّۃٌ۔ (مسلم ۱۳۳۱۔ ابوداؤد ۴۴۷۵)
(٢٨٩٩٨) حضرت حضین ابو ساسان فرماتے ہیں کہ اہل کوفہ میں سے چند لوگ سوار ہو کر حضرت عثمان کے پاس آئے انھوں نے آپ کو ولید بن عقبہ کے شراب پینے کے متعلق بتلایا۔ تو حضرت علی نے اس بارے میں آپ سے بات کی۔ حضرت عثمان نے فرمایا : اپنے چچا زاد بھائی کے پاس جاؤ اور تم اس پر حد قائم کرو سو حضرت علی نے فرمایاٖ اے حسن ! کھڑے ہو اور اسے کوڑے مارو اس نے کہا : تم اس عمل کے اہل نہیں ! اپنے علاوہ کسی کو سپرد کرو آپ نے فرمایا : بلکہ تو ضعیف ہوگیا، کمزور ہوگیا اور عاجز ہوگیا ہے اے عبداللہ بن جعفر کھڑے ہوجاؤ پس انھوں نے اس کو کوڑے مارنے شروع کردیے اور حضرت علی شمار کررہے تھے یہاں تک کہ وہ چالیس تک پہنچ گئے، آپ نے فرمایا : ٹھہرو یا فرمایا : رک جاؤ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے چالیس کوڑے مارے ہیں اور حضرت ابوبکر نے بھی چایس کوڑے مارے ہیں اور حضرت عمر نے اس کی اسی کوڑے تک تکمیل فرمائی ہے اور تمام سنت طریقے ہیں۔