(۲۹۰۸۲) حَدَّثَنَا حُمَیْدٌ ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ جَرِیرِ بْنِ حَازِمٍ ، عَن عِیسَی بْنِ عَاصِمٍ ، قَالَ : خَرَجَ قَوْمٌ فِی سَفَرٍ ، فَمَرُّوا بِرَجُلٍ فَنَزَلُوا بِہِ ، فَطَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا ، فَمَضَی الْقَوْمُ فِی سَفَرِہِمْ ، ثُمَّ عَادُوا فَوَجَدُوہُ مَعَہَا ، فَقَدَّمُوہُ إِلَی شُرَیْحٍ، فَقَالُوا: إِنَّ ہَذَا طَلَّقَ امْرَأَتَہُ ثَلاَثًا وَوَجَدْنَاہُ مَعَہَا، فَأَنْکَرَ، فَقَالَ: تَشْہَدُونَ أَنَّہُ زَانٍ؟ فَأَعَادُوا عَلَیْہِ القَول کَمْا قَالُوا، فَقَالَ: تَشْہَدُونَ أَنَّہُ زَانٍ؟ فَأَعَادُوا عَلَیْہِ، فَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا، وَلَمْ یَحُدَّہُمَا، وَأَجَازَ شَہَادَتَہُمَا۔
(٢٩٠٨٢) حضرت عیسیٰ بن عاصم فرماتے ہیں کہ چند لوگ سفر میں نکلے ان کا گزر ایک آدمی کے پاس سے ہوا تو انھوں نے اس کے پاس قیام کیا اس دوران اس آدمی نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دے دیں پھر وہ واپس لوٹے تو انھوں نے اس کو اس عورت کے ساتھ پایا سو انھوں نے اس کو حضرت شریح کے سامنے پیش کیا اور کہنے لگے : بیشک اس شخص نے اپنی بیوی کو تین طلاقیں دی تھیں اور ہم نے اسے اس عورت کے ساتھ پایا ہے اور وہ آدمی انکار کررہا تھا۔ اس پر آپ نے فرمایا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ پس انھوں نے اپنے قول کو دھرایا جیسا انھوں نے کہا تھا پھر آپ نے پوچھا : کیا تم گواہی دیتے ہو کہ یہ شخص زانی ہے ؟ انھوں نے پھر اپنی بات دھرائی سو آپ نے ان کے درمیان تفریق کردی اور ان دونوں پر حد نہیں لگائی اور ان کی گواہی کو جائز قرار دیا۔