(۲۹۱۱۸) حَدَّثَنَا کَثِیرُ بْنُ ہِشَامٍ ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ بُرْقَانَ ، قَالَ : بَلَغَنَا أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِیزِ أُتِیَ بِجَارِیَۃٍ کَانَتْ بَیْنَ رَجُلَیْنِ ، فَوَطِئَہَا أَحَدُہُمَا ، فَاسْتَشَارَ فِیہَا سَعِیدَ بْنَ الْمُسَیَّبِ ، وَسَعِیدِ بْنِ جُبَیْرٍ ، وَعُرْوَۃَ بْنِ الزُّبَیْرِ ، فَقَالُوا : نَرَی أَنْ یُجْلَدَ دُونَ الْحَدِّ ، ویُقَوّموہا قِیمَۃً ، فَیَدْفَعُ إِلَی شَرِیکِہِ نِصْفَ الْقِیمَۃِ۔
(٢٩١١٨) حضرت جعفر بن برقان فرماتے ہیں کہ ہمیں خبر پہنچی ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز کے پاس ایک باندی لائی گئی جو دو آدمیوں کے درمیان مشترک تھی پس ان میں سے ایک نے اس سے وطی کرلی تو آپ نے اس بارے میں حضرت سعید بن مسیب ، حضرت سعید بن جبیر اور حضرت عروہ بن زبیر وغیرہ حضرات سے مشورہ مانگا ان سب نے فرمایا : ہماری رائے یہ ہے کہ اس کو حد کی مقدار مقررہ سے کم کوڑے مارے جائیں اور انھوں نے اس باندی کی ایک قیمت مقرر فرمائی کہ وہ شخص اپنے شریک کوا س کی آدھی قیمت ادا کرے گا۔