(۲۹۱۶۴) حَدَّثَنَا یَزِیدُ بْنُ ہَارُونَ ، قَالَ : حَدَّثَنَا سَلَیْمُ بْنُ حَیَّانَ ، قَالَ : حدَّثَنَا سَعِیدُ بْنُ مِینَائَ ، قَالَ : کَانَ عَبْدُ اللہِ بْنُ الزُّبَیْرِ یَلِی صَدَقَۃَ الزُّبَیْرِ ، وَکَانَتْ فِی بَیْتٍ لاَ یَدْخُلُہُ أَحَدٌ غَیْرُہُ ، وَغَیْرُ جَارِیَۃٍ لَہُ ، فَفَقَدَ شَیْئًا مِنَ الْمَالِ، فَقَالَ لِلْجَارِیَۃِ : مَا کَانَ یَدْخُلُ ہَذَا الْبَیْتَ غَیْرِی وَغَیْرُک ، فَمَنْ أَخَذَ ہَذَا الْمَالَ ؟ فَأَقَرَّتِ الْجَارِیَۃُ ، فَقَالَ لِی : یَا سَعِیدُ ، انْطَلِقْ بِہَا فَاقْطَعْ یَدَہَا ، فَإِنَّ الْمَالَ لَوْ کَانَ لِی لَمْ یَکُنْ عَلَیْہَا قَطْعٌ۔
(٢٩١٦٤) حضرت سعید بن مینائ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن زبیر حضرت زبیر کے صدقہ کا انتظام و انصرام سنبھالتے تھے اور وہ صدقہ کا مال اس گھر میں ہوتا تھا جس میں کوئی شخص حضرت عبداللہ بن زبیر اور ان کی باندی کے علاوہ داخل نہیں ہوسکتا تھا پس اس میں سے کچھ مال گم ہوگیا۔ تو آپ نے باندی سے کہا : اس گھر میں میرے اور تیرے علاوہ کوئی داخل نہیں ہوتا تو کس نے یہ مال لیا ہے ؟ باندی نے اقرار کرلیا۔ پھر آپ نے مجھ سے فرمایا : اے سعید اس کو لے جاؤ اور اس کا ہاتھ کاٹ د و اس لیے کہ اگر میرا ہوتا تو پھر اس کا ہاتھ نہ کٹتا۔