(۲۹۲۰۶) حَدَّثَنَا حَفْصٌ ، عَنْ أَشْعَثَ ، عَنِ الزُّہْرِیِّ ، قَالَ : أُخِذَ نَبَّاشٌ فِی زَمَانِ مُعَاوِیَۃَ ، زَمَانَ کَانَ مَرْوَانُ عَلَی الْمَدِینَۃِ ، فَسَأَلَ مَنْ کَانَ بِحَضْرَتِہِ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ بِالْمَدِینَۃِ وَالْفُقَہَائِ ؟ فَلَمْ یَجِدُوا أَحَدًا قَطَعَہُ ، قَالَ : فَأَجْمَعَ رَأْیُہُمْ عَلَی أَنْ یَضْرِبَہُ ، وَیُطَافَ بِہِ۔
(٢٩٢٠٦) حضرت زھری فرماتے ہیں کہ حضرت معاویہ کے زمانہ خلافت میں جب مروان مدینہ کا امیر تھا تو اس دوران ایک کفن چور کو پکڑا گیا تو مروان نے مدینہ میں موجود رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ اور فقہاء سے اس کے متعلق پوچھا ؟ پس ان سب نے کسی کو نہیں پایا جس نے کفن چور کا ہاتھ کاٹا ہو سو ان سب کی رائے اس بات پر متفق ہوئی کہ اس کو مارا جائے اور چکر لگوایا جائے۔