(۲۹۲۱۹) حَدَّثَنَا أَبُو الأَحْوصِ ، عَنْ أَبِی الْحَارِثِ التَّیْمِیِّ ، عَن أَبِی مَاجِدٍ الْحَنَفِیِّ ، قَالَ : کُنْتُ عِنْدَ عَبْدِ اللہِ بْنِ مَسْعُودٍ قَاعِدًا ، فَجَائَہُ رَجُلٌ مِنَ الْمُسْلِمیَن بِابْنِ أَخٍ لَہُ ، فَقَالَ لَہُ : یَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَانَ ، ابْنُ أَخِی وَجَدْتُہُ سَکْرَانًا ، فَقَالَ عَبْدُ اللہِ : تَرْتِرُوہ ، وَمَزْمِزُوہ ، وَاستُنْکِہُوہ ، فَتُرْتِر ،وَمُزْمِز ، وَاستُنْکِہ ، فَوُجِدَ سَکْرَانًا ، فَدُفِعَ إِلَی السِّجْنِ ، فَلَمَا کَانَ الْغَدُ ، جِئْتُ وَجِیئَ بِہِ۔ (بیہقی ۳۱۸)
(٢٩٢١٩) حضرت ابو ماجد حنفی فرماتے ہیں کہ میں حضرت عبداللہ بن مسعود کے پاس بیٹھا ہوا تھا کہ مسلمانوں میں سے ایک آدمی اپنے بھتیجے کو لایا اور آپ سے کہنے لگا : اے ابو عبدالرحمن ! میرے بھائی کا بیٹا ہے میں نے اسے نشہ کی حالت میں پایا ہے اس پر حضرت عبداللہ بن مسعود نے فرمایا : تم اس کو اچھی طرح ہلاؤ، اس کو دھکیلو اور اس کے منہ کی بوسو نگھو پس اسے سنگھایا گیا تو آپ نے اسے نشہ کی حالت میں پایا، اسے جیل بھیج دیا گیا پس جب اگلا دن آیا تو میں آیا اور اسے بھی لایا گیا۔