(۲۹۲۲۳) حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِیَۃَ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاہِیمَ ، عَنْ عَلْقَمَۃَ ، قَالَ : قرَأَ عَبْدُ اللہِ سُورَۃَ یُوسُفَ بِحِمْصَ ، فَقَالَ رَجُلٌ : مَا ہَکَذَا أُنْزِلَتْ ، فَدَنَا مِنْہُ عَبْدُ اللہِ ، فَوَجَدَ مِنْہُ رِیحَ الْخَمْرِ ، فَقَالَ لَہُ : تُکَذِّبُ بِالْحَقِّ ، وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ ، وَاللَّہِ ، لَہکَذَا أَقْرَأَنِیہَا رَسُولُ اللہِ صَلَّی اللَّہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ، لاَ أَدَعُک حَتَّی أَحُدَّک ، فَجَلَدَہُ الْحَدَّ۔ (بخاری ۵۰۰۱۔ مسلم ۵۵۲)
(٢٩٢٢٣) حضرت علقمہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن مسعود نے حمص میں سورة یوسف کی تلاوت فرمائی اس پر ایک آدمی کہنے لگا یہ آیت ایسے نازل نہیں ہوئی ، پس حضرت عبداللہ بن مسعود اس کے قریب ہوئے تو آپ نے اس سے شراب کی بو پائی، آپ نے اس سے فرمایا : تو حق بات کی تکذیب کرتا ہے اور ناپاک چیز پیتا ہے ! اللہ کی قسم ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے مجھے یہ آیت اسی طرح پڑھائی ہے میں تجھے نہیں چھوڑوں گا یہاں تک کہ میں تجھ پر حد لگاؤں گا پھر آپ نے اس پر حد لگائی۔